Our Blog

آپ تجارت کیسے کریں؟

 

اسلام میں روپیہ پیسہ کمانا کوئی بُرا عمل نہیں ہے بلکہ جائز طریقے سے کمانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ آج کل کے دور میں روپیہ پیسہ ایک ایسی ضرورت بن چکا ہے کہ جس کے بغیر گزارہ مشکل ہے ۔ آج کے دور میں ہونے والی برائیوں کے اسباب میں ایک بہت بڑا سبب روپیہ پیسہ کی ناجائز تقسیم بھی ہے۔ ایسی تقسیم جو امیر کو روزانہ امیر بنا دے اور غریب کو غریب تر کر دے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ ! ہم اِس پیسے کی محبت اپنے دل سے نہیں نکال سکتے مگر اِس پیسے کو اپنی محبت کا ذریعہ بنا دے۔ اسلام نے روپیہ پیسہ کمانے کا جائزاور حلال طریقہ بتایا ہے جس کے ذریعہ انسان روپیہ پیسہ کما کر اپنے رب کے مزید نزدیک ہوسکتا ہے۔ جب ہم روپیہ پیسہ جائز طریقے سے کمائیں گے تو یہی روپیہ پیسہ کمانا ہمارے لئے باعث ِ اجر و ثواب بن جائے گا ۔

اسلام میں روپیہ پیسہ کمانا دو طریقوں سے ممکن ہے ۔ ایک طریقہ حرام ہے اور ایک طریقہ حلال ہے۔ حرام طریقوں میں سود، رشوت، جھوٹ، دھوکہ ، چوری وغیرہ شامل ہیں ۔ اِس کے برعکس دوسرے طریقے میں کاروبار ، ملازمت ، زراعت ، صنعت وغیرہ شامل ہیں۔ اگر ہم حرام طریقوں میں سے کسی ایک طریقے کے مطابق پیسہ کمائیں گے تو یہ حرام پیسہ ہمارے اخلاق ، کردار ، عادات اور دین کی تباہی کا ذریعہ اور سبب بنے گا ۔ یہ حرام رزق ہمیں اپنے رب سے مزید دور کر دے گا ۔ حرام ذریعہ سے حاصل کردہ ایک روپیہ حلال ذریعہ سے حاصل کردہ ہزاروں روپے پر بھاری ہوتا ہے ۔ حرام رزق سے پلنے والے جسم کا ٹھکانہ جہنم قرار دیا گیا ہے ۔ اگر ہم اپنے ملازمین کی تنخواہیں بر وقت ادا نہیں کرتے یا غیرم ناسب کٹوتیاں کرتے ہیں یا اُن کی تنخواہیں درست طریقے سے مقرر نہیں کرتے تو یہ بھی ہمارے لئے حرام ہے اور اِس روپے پیسے سے ہونے والی تجارت ہمارے لئے جائز نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر ہم اپنے گاہک کو عیب دار چیز فروخت کردیں اور اُس کا عیب نہ بتائیں یا عیب چھپا دیں تو یہ سب ہمارے لئے حرام ہے ۔

اسلام میں روپیہ پیسہ کمانے کا حلال ذریعہ بھی ہے جس کے اصول و ضوابط اسلام نے تفصیل کے ساتھ بیان کر دیے ہیں اگر ہم کاروبار کر رہے ہیں تو ہمیں کاروبار میں اِس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کاروبار کے لئے حاصل کردہ رقم حرام ذرائع سے حاصل کردہ تو نہیں ہے ۔ ہمارا پیسہ سودی قرض سے حاصل کردہ تو نہیں ہے کیونکہ سود کا معاملہ کرنے والے کے ساتھ تو اللہ اور اُس کے رسول کا اعلان ِ جنگ ہے ۔ اِس کو کامیابی کیسے ملے گی ۔ وقتی طور پر اُس کو کامیابی مل سکتی ہے لیکن اِس کامیابی کا انجام خسارہ اور نقصان ہے ، ایسا خسارہ اور نقصان جو کبھی ختم نہ ہو۔

اسلام میں تجارت کی بہت فضیلت آئی ہے لیکن اس کے احکام سیکھنے کی تاکید بھی بہت آئی ہے۔ مثلاََ تجارت کرتے وقت ایک تاجر کی کیا ذمہ داری ہے۔ ایک تاجر کو اپنی اشیاء فروخت کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اسلام میں نقد اور ادھار خرید و فروخت کےا حکام بالکل جدا ہیں ۔ قسطوں میں خرید و فروخت کے وقت بہت سی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ورنہ معاملہ سودی ہوجائے گا۔ آپ اپنی مصنوعات کی تشہیر کرتے وقت کن باتوں کا خیا ل رکھیں گے۔ تشہیر کے دوران غیر اخلاقی اور گراوٹ والا کوئی عمل سرزد نہ ہو۔ اگر آپ نےکاروبار کے لئے فائنانس کرنا ہے تو کیسے کریں کہ آپ کا مقصد بھی حل ہوجائے اور اللہ تعالی کی ناراضی سے بھی محفوظ رہیں۔ اگر آپ کے ادارے میں کچھ ملازمین کام کر رہے ہیں تو اُن ملازمین کے کیا حقوق و فرائض ہیں۔

شریعہ آڈٹ کیا ہے؟

شریعہ آڈٹ ایک ایسا آڈٹ ہے جو آپ کی راہنمائی کرتا ہے کہ آپ کی تجارت اور کاروبار میں ایسی کون سی خرابی ہے جو اسلام کے آحکام ِ تجارت کے خلاف ہےاور اُسے درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس آڈٹ کے ذریعہ آپ کو آ کے کاروبار میں موجود خرابیوں کا متبادل حل دیا جائے گا اور اُ س کو نافذ کرکے آپ کے کاروبار کو مکمل اسلامی کیا جائے گا تا کہ آپ کا کاروبار آپ کی عبادت بن جائے اور نفع کے ساتھ ساتھ آپ ثواب اور رضائے خداوندی بھی حاصل کر سکیں ۔ شریعہ آڈٹ میں صرف آپ کی کاروباری پالیسیوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ اُن پالیسیوں کو درست کیا جاسکے۔ آپ بھی اپنے کاروبار میں شریعہ آڈٹ کے لئے تھوڑی سی انویسٹمنٹ کر کے دلی اطمینان حاصل کرسکتے ہیں۔

 

 

 

Tags:

This is a unique website which will require a more modern browser to work! Please upgrade today!