Our Blog

اداروں میں خوشگوار ماحول

 

اللہ تعالی نے ہر انسان کو مختلف کاموں کے لئے پیدا کیا ہے ۔ ان کے مختلف درجات بنائے ہیں ۔ ان کی تخلیق کے اعتبار سے ان کو صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں۔ ہر انسان ہر کام نہیں کرسکتا۔ ہر انسان کاروبار نہیں کرسکتا۔ بعض کے پاس پیسہ نہیں ہوتا ، بعض کے پاس کاروبار کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اللہ تعاالی نے اس دنیا کے نظام کو چلانے کے لئے ہر انسان کو دوسرے انسان کا محتاج بنا دیا تاکہ کوئی انسان کسی دوسرے پر ظلم نہ کرے اور ایک دوسرے کی ضروریات بھی پوری کرتے رہیں۔ چنانچہ کسی انسان کو غریب بنا دیا اور کسی کو صاحبِ ثروت ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

ورفعنا بعضھم فوق بعض درجت لیتخذ بعضھم بعضا سخریا (الایۃ)

اور ہم نے انہی میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دی ، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے تمام انسانوں کے حقوق و فرائض کو بھی متعین کردیا تاکہ اس کائنات کا نظام عدل و انصاف پر مبنی رہے ۔ موجودہ اشتراکی اور جاگیردانہ نظام میں جہاں بہت سے لوگ ترقی کر رہے ہیں ، وہیں بہت سے لوگ اپنے اوپر ہونے والے ظلم و زیادتی کی وجہ سے ناکامی کا منہ بھی دیکھ رہے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم لوگ اللہ تعالی کے بتائے ہوئے حقوق و فرائض کو بخوبی ادا کریں اور دنیا و آخرت کی کامیابی کو حاصل کریں۔ اس دنیا کا دستور ہے کہ بعض لوگ کسی کاروبار کے مالک ہوتے ہیں اور بعض لوگ وہاں ملازم ہوتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے آج سے چودہ صدیاں قبل ہی اس رشتے کے حقوق و فرائض واضح فرما دیا تھا ۔ آپ علیہ السلام کی بے مثال ہدایات پر عمل کرکے اداروں میں خوشگوار ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے ۔

اللہ تعالی اس بات کو پسند کرتا ہےکہ جب تم میں سے کوئی کام کرے تو اُس کی مضبوطی اور اچھائی کا خیال رکھے۔(مجمع الزوائد)

 

مزدور کو مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل ہی ادا کر دیا کرو۔ (ابن ماجہ)

 

Tags:

This is a unique website which will require a more modern browser to work! Please upgrade today!