Our Blog

اسلام اور برانڈنگ

موجودہ دور میں اپنے کاروبار کو جدید دنیا میں متعارف کروانے کا ایک جدید طریقہ برانڈنگ بھی ہے۔ برانڈنگ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی پراڈکٹ کو ایک مخصوص شناخت اور تصویر فراہم کرنا تاکہ خریدار جب بھی ایک ایسی چیز کے بارے میں سوچے تو اُس کے ذہن میں ہماری کمپنی کا نام آجائے اور وہ ہماری پراڈکٹ کی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ ہوسکیں ۔پراڈکٹ کہتے ہیں کہ کمپنی کی طرف سے مارکیٹ میں ایک ایسی آفر جو کہ کسٹمرزکو اُن کی ضروریات اور خواہشات میں مطمئن کر سکے۔ پراڈکٹ ایک چیز یا سروس یا کوئی اچھوتا خیال بھی ہوسکتا ہے ۔

برانڈنگ کا مقصد یہ ہوتاہے کہ مارکیٹ میں موجود دوسرے کاروباری افراد جو کہ ہمارے جیسا ہی کاروبار کر رہے ہیں ، اُن سے زیادہ نفع کمانا ۔ برانڈنگ ایک وعدہ ہوتا ہے اپنے کسٹمرز سے کہ وہ جو ہماری کمپنی سے توقعات وابستہ کر رہے ہیں ، کمپنی اُن توقعات پر قائم رہے گی اور اُن کو پورا کرے گی ۔ برانڈنگ کے کچھ فوائد بھی ہیں ۔ مثلا

1۔ برانڈ کا نام کے حوالے سے ایک لاشعوری بیداری      2۔ کسٹمر کی وفاداری         3۔ یقینی معیار 4۔ مضبوط جذباتی یا ذہنی تعلق

ایک برانڈ کی کامیابی کے لئے مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا لازمی ہے ۔

1۔ تلفظ کے لئے آسان اور منفی جذبات سے خالی ہونا۔     2۔ مختصر اور آسانی کے ساتھ یاد رہنے والا

3۔ پراڈکٹ کی خصوصیات اور فوائد کی وضاحت کرنے والا     4۔ پراڈکٹ کے تاثر کے ساتھ مطابقت ہونا

5۔ کاپی رائٹ یا دیگر قوانین کی خلاف ورزی سے اجتناب ہونا ۔

اس وقت دنیا میں برانڈنگ کے جو طریقے متعارف ہیں، وہ مغرب کے نظریات سے ہم آہنگ ہیں اور وہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق نہیں جس کی وجہ سے مسلم دنیا میں بہت سی جگہوں پر مغربی برانڈنگ کی کامیابی مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ بہت سے ممالک میں مغربی برانڈنگ کی مسلم دنیا کی ثقافت سے ہم آہنگی نہیں ہوتی جبکہ مسلم آبادی اس وقت تقریبا تمام آبادی کا ٪23 ہیں اور اس آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسلم صارفین کی تعداد میں بھی ایک بہتر اضافہ ہورہا ہے اور موجودہ دور میں مسلم صارفین کا اپنے دین کی طرف رجحان بھی بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔چنانچہ اسلامک برانڈنگ بھی ایک مستقل بازار کی حیثیت سے ابھر رہی ہے ۔ بہت سے مسلم صارفین بہت سی پراڈکٹ صرف اس لئے خریدتے ہیں کہ اُس پراڈکٹ پر اسلام کالیبل لگا ہوتا ہے جو کہ اُن کے لئے ایک دلی سکون کا باعث بنتا ہے ۔

اسلام میں برانڈنگ کی اجازت ہے لیکن اس میں چند باتوں کا دھیان رکھنے کی ضرورت ہے :

  • ہم اپنی پراڈکٹ کی برانڈنگ کرتے ہوئے کسی جھوٹ کا سہارا نہ لیں کیونکہ جھوٹ سے کاروبار میں سے برکت ختم ہوجاتی ہے ۔ اس کے برعکس ہمیں اپنی پراڈکٹ کے معاملے میں سچ بولنا ہوگا اور یہی سچ ہمیں اور ہماری پراڈکٹ کو کامیابی کی منزلوں تک لے جائے گا جو کہ ہمارا ہدف ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سچائی سے کامیابی ملتی ہے اور جھوٹ سے نقصان ہوتا ہے ۔ نیز سچ بولنے والے کے لئے جنت کی خوشخبری بھی ہے ۔
  • ہم اپنی پراڈکٹ کی برانڈنگ کرتے ہوئے کسی میوزک کا سہارا نہ لیں کیونکہ اسلام میں میوزک کی بالکل کوئی اجازت نہیں ہے بلکہ اللہ کے رسول ﷺ کے ارشاد کے مطابق میوزک سننے والے کے کان میں سیسہ گھول کر ڈالا جائے گا ۔
  • ہم اپنی پراڈکٹ کی برانڈنگ کرتے ہوئے کسی جاندار کی تصویر کا سہارا نہ لیں کیونکہ اسلام میں تصویر بنانے کی اجازت نہیں ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ایسے لوگوں پر لعنت کی ہے کہ جو تصویر سازی میں ملوث ہیں ۔ نیز ایسے لوگوں کے بارے میں آتا ہے کہ قیامت کے دن تصویر بنانے والوں سے کہا جائے گا کہ اپنی بنائی ہوئی تصویر میں جان ڈالو جو انسانوں کے لئے ممکن نہیں ۔ بہت سی کمپنیاں بالخصوص ٹیلی کام کمپنیاں اپنی پراڈکٹ کی برانڈنگ کرتے ہوئے خواتین کی انتہائی نازیبا تصاویر چوکوں اور چوراہوں پر لگادیتے ہیں جو کہ نہ صرف اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے بلکہ ہماری روایات اور اقدار کے مطابق بھی نہیں ۔ اس لئے ہمارا یہ شرعی اور اخلاقی فریضہ بنتا ہے کہ ہم ایسی کمپنیوں کے مالکان سے ان نازیبا تصاویر کو ختم کرنے کا کہیں ۔ ہماری برانڈنگ اور اشتہار سازی میں عورت کی تصویر کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے کہ اصل پراڈکٹ بالکل عورت ی تصویر میں ہی غائب ہوجاتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس اشتہار کا مقصد یہ عورت ہے۔ اس طرح کی حرکت عورت کے لئے بذاتِ خود ایک تذلیل ہے۔
  • ہم اپنی پراڈکٹ کی برانڈنگ کرتے ہوئےمبالغہ آرائی سے گریز کریں تاکہ معلومات کے حصول میں کسی قسم کے دھوکے سے محفوظ رہیں کیونکہ اسلام میں دھوکہ دینے کی اجازت نہیں ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کے ارشاد کے مطابق دھوکہ دینے والا مسلمانوں میں سے نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے اس معاملے میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ۔

یہ وہ چند خصوصی نکات ہیں کہ جن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ بھی بہت ہیں ۔ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ مسلمان اسلامک برانڈنگ کے میدان میں بھی توجہ دیں جو مستقبل کی ایک بڑی منڈی میں شمار ہوتے ہیں ۔ اسلامک برانڈنگ نہ صرف ایک کاروبار ہے بلکہ غیر مسلموں کے لئے دین کی ایک دعوت بھی ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں ایک منصوبہ بندی اور بھر پور محنت کی ضرورت ہے تاکہ ہم اس مارکیٹ میں بھی اللہ تعالی کے احکامات اور نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو رائج کریں اور اپنے نفع کے ساتھ ساتھ صدقہ جاریہ بھی بنائیں ۔

Tags:

This is a unique website which will require a more modern browser to work! Please upgrade today!