Our Blog

خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا

 

دکان دار یہ جملہ لکھنے کے بعد اور اِس پر عمل کرنے کے بعد سوچتے ہیں کہ شاید ہمارے کاروبار کی ترقی اِسی جملے میں پوشیدہ ہے۔ یہ ایک ایسا گُر ہے جو ہمیں راتوں رات امیر ترین آدمی بنادے گا ۔ ہمارے کاروبار میں نقصان نہیں ہوگا کیونکہ گاہک چیز ایک دفعہ خریدنے کے بعد واپس نہیں آئے گا ۔ یوں ہماری تجارت بڑھ جائے گی اور ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ انسان فطرتاََ خود غرض واقع ہوا ہے اللہ تعالی نے اِس کی اس عادت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے :

لایسئم الانسان من دعاء الخیر (49:41)                      انسان بھلائی (مال و دولت) مانگنے سے کبھی نہیں تھکتا۔

اگر ہم اِ س پالیسی پر غور کریں تو ہمیں یہ محسوس ہوگا کہ یہ پالیسی اور سوچ لالچ اور خود غرضی پر مبنی ہے۔ہمیں اپنا نفع اور فائدہ عزیز ہے اور کسی دوسرے کے نقصان کی ہمیں پرواہ نہیں ہے۔اسلام کی سوچ اِس سے مختلف ہے ۔ اسلام کی تعلیمات پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اسلام میں کسی دوسرے کے لئے قربانی دینے کا بہت زیادہ اجر مقرر کیا گیا ہے اور اِس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اِسی جذبہ قربانی کے تحت اپنی جانیں تک بھی دوسرے صحابہ ساتھیوں کے لئے قربان کر دیا کرتے تھے جبکہ اِس مال کی اُن کے سامنے اپنے بھائی ، دوست کے مقابلے میں کوئی وقعت اور اہمیت نہ تھی۔

ایک دفعہ ایک غزوہ میں تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شدید زخمی ہوگئے اور تینوں کو بہت شدید پیاس لگی ہوئی تھی۔ ایک صحابی اُن میں سے ایک زخمی کے لئے پانی لے کر آئے تو انہوں نے دوسرے زخمی کی طرف بھیج دیا اور جب وہ دوسرے زخمی کے پاس پہنچے تو انہوں نے تیسرے زخمی کے پاس بھیج دیا ۔ جب وہ پانی لے کر تیسرے کے پاس پہنچے تو وہ اللہ کے پاس پہنچ چکے تھے ۔ وہ صاحب پانی لے کر واپس دوسرے کے پاس پہنچے تو وہ بھی بغیر پانی کے رخصت ہوچکے تھے۔ پھر وہ بھاگ کر واپس پہلے صحابی کے پاس پہنچے تو وہ بھی جان دے چکے تھے۔ یوں تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کے لئے پانی کی قربانی دیتے ہوئے پیاسے ہی اللہ کے راستے میں شہید ہو چکے تھے۔ ایثار و قربانی کا یہ ایسا واقعہ ہے کہ عقل حیران ہے کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ تینوں میں سے ایک نے بھی پانی پینا گوارا نہ کیا اور شہید ہوگئے۔

یہ جذبہ ایثار صرف جہاد کے موقع پر ہی نہیں تھا بلکہ تجارت اور کاروبار میں بھی اِس جذبے کی کوئی کمی نہ تھی ۔ اسی جذبے کو کاروبار میں بیدار کرنے کے لئے نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی۔ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ بازار تشریف لے گئےتو ایک دکان دار کسی چیز کا وزن کر رہا تھا ۔ آپ ﷺ نے اُس سے ارشاد فرمایا : زِن و ارجِح (وزن کرتے وقت ذرا تول کو جھکاؤ)۔یعنی خریدار کو وزن کرتے وقت کچھ زیادہ دے دو۔ اِس طرح خریدار خوش ہوجائے گا اور مزید خریداری کے لئے آئے گا ۔ اِسی طرح ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:

من اقال مسلماَ اقالہ اللہ عثرتہ یوم القیامۃ (ابو داؤد)           جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ اقالہ کرےگا ، اللہ تعالی قیامت کے دن اُس کی غلطیاں بخش دے گا ۔

اقالہ کہتے ہیں کہ کسی چیز کو خریدنے یا فروخت کرنے کے بعد اُسے واپس کرنا اور اُس کنٹریکٹ کو منسوخ کرنا ۔ یہ فضیلت دکان دار اور خریدار دونوں حاصل کر سکتے ہیں ۔ ایک اور موقع پر ایسے شخص کو رسول ﷺ نے رحمت کی دعا ء دی ہے جو کہ لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرتا ہے:

رحم اللہ رجلاَسمحاَ اذا باع و اذا اشتریٰ واذا اقتضیٰ (بخاری)

اللہ تعالی رحم فرمائے ایسے آدمی پر کہ جو لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرتا ہے خرید و فروخت اور مطالبے کے وقت۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے کاروبار ناکام ہوجاتے ہیں جو کہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور آسانی کا معاملہ کرتے ہیں ۔ کیا ایسے کاروبار ختم ہوجاتے ہیں کہ جو لوگوں سے خریدا ہوا مال واپس لے لیتے ہیں ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ ایسے کاروبار دیگر کاروبار کی نسبت زیادہ جلدی ترقی حاصل کرتے ہیںاور زیادہ نفع کماتے ہیں ۔آج کی اِس دنیا میں اِس کی مثالیں موجود ہیں ۔ مثلا دنیا کا مشہور سٹور وال مارٹ ہے ۔ اِس کی سال 2013 ء میں ٹوٹل آمدنی 469.162 بلین یو ایس ڈالرز تھا ۔ 2013ء میں اِ س کے ٹوٹل ملازموں کی تعداد 2.2 ملین تھی ۔

سحر ٹیک آئی ٹی کی دنیا کی ایک پاکستانی کمپنی ہے جو کہ 1998ء سے منی بیک گارنٹی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔اِس کمپنی کے مالک کے بقول 2013ء تک صرف ایک خریدار ایسا تھا کہ جس نے اِس سہولت سے فائدہ اٹھایا جبکہ باقی سارے کسٹمرز اِس کمپنی کے ساتھ مسلسل چل رہے ہیں۔

منی بیک گارنٹی ایک ایسی پالیسی ہے کہ جس کا اگر صحیح استعمال کیا جائے تو یہ کاروبار میں اضافے اور نفع کا سبب بن جائے گا۔مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے کہ جب ایسی پالیسی لائی جاتی ہے لیکن اُس کو مکمل طور پر لاگو نہیں کیا جاتا ۔ جس کی وجہ سےاِس کا نقصان ہوتا ہے ۔چنانچہ اِس پالیسی کو صحیح طور پر نافذ کرکے اپنا کاروبار بڑھایا جا سکتا ہے۔

Tags:

This is a unique website which will require a more modern browser to work! Please upgrade today!