Our Blog

زکوۃ ایک عبادت ہے

 

اسلام کا ایک اہم رکن زکوۃ ہے ۔ اگر اس رکن کا بالکل انکار کیا جائے تو انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔ زکوۃ کے بارے میں قرآن و حدیث میں بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں :

 

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺنے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا کہ تم انہیں یہ شہادت دینے کی دعوت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اگر وہ اس کو مان لیں تو انہیں یہ بتلاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں کو دی جائے گی۔(بخاری)

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ انہوں نے عرض کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کردے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو کیا ہوگیا، اس کو کیا ہوگیا، اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ صاحب ضرورت ہے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کا کسی کو شریک نہ بنا، نماز قائم کر اور زکوۃ دے اور صلہ رحمی کر۔(بخاری)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے زکوۃ نہ اداء کی تو اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کے پاس لایا جائے گا جس کے سر کے پاس دو چنیاں ہوں گی قیامت کے دن اس کا طوق بنایا جائے گا، پھر اس کے دونوں جبڑوں کو ڈسے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، پھر قرآن کی آیت پڑھی اور وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مال عطا کیا اور وہ اس میں بخل کرتے ہیں وہ اسے اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں بلکہ یہ برا ہے اور قیامت کے دن یہی مال ان کے گلے کا طوق ہوگا۔ (بخاری)

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ رمضان میں زکوۃ فرض ہوتی ہے ۔ یہ درست خیال نہیں ہے بلکہ اسلامی مہینے کی جس تاریخ کو انسان کے پاس اسلام کے معیار کے مطابق قابل ِ زکوۃ مال جمع ہوجائے اور پھر اُس پر ایک سال گزر جائے تو زکوۃ فرض ہوجاتی ہے ۔ اس سال کے دوران جتنا اضافہ ہوتا جائے گا وہ بھی اُسی میں شمار کیا جائے گا اور اُس پر زکوۃ فرض ہوگی۔ اُس کے لئے الگ سے سال کا گزرنا شرط نہیں ہے ۔

قابلِ زکوۃ اموال یہ ہیں : ساڑھے سات تولہ سونا (کسی بھی مقصد کے لئے ہو)، ساڑھے باون تولہ چاندی(کسی بھی مقصد کے لئے ہو) ، نقد، سامان تجارت۔ ان میں سے کسی ایک کی یا کوئی بھی دو آپس میں ملا کر کل مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوں تو زکوٰۃ فرض ہوگی۔

سامان ِ تجارت میں وہ تمام اشیاء شامل ہوں گی جو کہ فروخت کی نیت سے خریدی گئی ہیں مثلا پلاٹ، مکان ، دکان ، گاڑی ، جیولری ، الیکٹرونکس کا سامان ، شیئرز، بانڈز وغیرہ شامل ہیں ان کی موجودہ مالیت پر زکوۃ ہوگی ۔ اس کے علاوہ اگر کسی کے پاس نقد روپیہ رکھا ہو ، اُس پر بھی زکوۃ فرض ہوگی ۔ وہ روپیہ حج، اولاد کی شادی ، مکان کی خریداری ، یا کسی بھی نیت سے رکھا ہو ۔ نیز ادھار دیے گئے روپیہ پیسہ پر بھی زکوۃ فرض ہوتی ہے ۔

زکوۃ سید ، عباسی، جعفری ، علوی اور ہاشمی خاندان کے افراد کو نہیں د ی جاسکتی کیونکہ احادیث ِ طیبہ میں منع کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ زکوۃ کی رقم کسی عمارت یا بلڈنگ کی تعمیر میں بھی نہیں لگائی جاسکتی۔ بہت سے ادار ےاور ٹرسٹ بھی زکوۃ وصول کرتے ہیں لیکن ان کا زکوۃ کو استعمال کرنے کا طریقہ کار شریعۃ کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوتا، اس لئے اُن کو دینا بھی جائز نہیں ہے ۔ بہت سے ہسپتال بھی زکوۃ کے پیسوں کی امداد سے چلتے ہیں لیکن ان کا نظام ِ زکوۃ بھی شریعۃ کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوتا ۔ ان کو زکوۃ دینے سے احتیاط کرنی چاہیے ۔ ان کی مدد زکوۃ کے علاوہ صدقات یا خیرات سے بھی کی جاسکتی ہے ۔ زکوۃ ایک عبادت ہے اور عبادت کو اُس کے اصولوں کےمطابق سر انجام دیا جاتا ہے ، اس میں اپنی مرضی نہیں کی جاسکتی ۔ زکوۃ کے پیسوں سے سڑک تعمیر کرنا یا مسجد کی تعمیر کرنا درست نہیں ہے۔ زکوۃ کے پیسوں کا مستحقِ زکوۃ کو مالک بنا ضروری ہے ۔ زکوۃ اپنے ملازمین کو بھی دی جاسکتی ہے لیکن وہ تنخواہ میں شمار نہیں کی جاسکتی ۔

 

Tags:

This is a unique website which will require a more modern browser to work! Please upgrade today!