Our Blog

سرپليس تكافل كا ايك امتيازي وصف

پاکستان میں انشورنس کے جائز ، متبادل اور حلال رائج الوقت اسلامی تکافل سسٹم میں بنیادی فرق اسلام کے مقررہ اصول و ضوابط کے مطابق قائم کیا گیا ’’وقف فنڈ‘‘ ہے ۔ اسی وقف کی وجہ سے یہ ممکن ہو پایا کہ انشورنس میں پایا جانے والا سود، قمار اور غرر تکافل میں نہیں پایا جاتا۔’’وقف ‘‘اسلامی فقہ کی ایک مخصوص اصطلاح ہے جس کے لغوی معنی ’’حبس‘‘ یعنی بند کرنے کے ہیں اور اصطلاح میں وقف سے مراد یہ ہے کہ اپنے دائمی نوعیت کے مال کو اپنی ملکیت سے نکال کر اللہ کی راہ میں اس طرح دے دینا کہ اس مال کی ذات تو باقی رہے لیکن اس کا فائدہ لوگوں کو پہنچتا رہے۔چوں کہ وقف شدہ چیز کی ملکیت بندے سے اللہ تعالی کی طرف منتقل ہو جاتی ہے نہ واقف اس کا مالک ہوتا ہے اور نہ ہی بندے یہی وجہ ہے کہ نہ تو واقف نہ تو اسے کسی ہدیہ دے سکتا ہے اور نہ ہی اس کی میراث میں اسے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ البتہ شریعت اسلامیہ نے واقف کو اس بات کی اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنے اس وقف کردہ چیز کے فائدے کو عمومی طور پر تمام لوگوں کے لیے روا رکھے یا مخصوص طبقہ، گروہ، جماعت حتی کہ اپنے خاندان یا اولاد تک کے لیے خاص کر دے۔اس کی طرف سے لگائی گئی ان مخصوص شرائط کی شریعت اسلامیہ نے اس حد تک پاسداری کی ہے کہ فقہاء کرام نے ان کی اہمیت کے پیش نظر ایک مسلمہ اصول شرط الواقف کنص الشارع بیان فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ واقف کا وقف میں شرط لگانا صاحب شریعت کے فرمان کی ماند ہے۔
وقف اور عام صدقہ خیرات میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ وقف میں واقف اپنے وقف کردہ مال کے لیے کوئی مخصوص شرائط لگا سکتا ہے جب کہ دیگر صدقہ خیرات کو بغیر کسی شرط کے ہی راہ خدا میں دینا ضروری ہوتاہے۔ وقف میں اس قسم کی وسعت شریعت اسلامیہ نے اسی لیے روا رکھی ہے تا کہ اس کے ذریعہ لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسلامی معاشرے کے صاحب حیثیت افراد کو زیادہ سے زیادہ ابھارا جائے اور ان کے اس عمل پررسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ثواب عظیم کا وعدہ بھی کر رکھا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث شریف میں یہ مضمون آیا ہے کہ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ جب مرجاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے مگر تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا ثواب برابر ملتا رہتا ہے ایک صدقہ جاریہ دوم وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے اور سوم صالح اور نیک اولاد جو اس کے لئے دعا گو رہے۔
پاکستان میں نظام تکافل کی بنیاد علماء کرام ا ور اسلامی سکالرز کی مشاورت اور تجاویز کی روشنی میں’’ وقف‘‘ پر رکھی گئی ہے اس لیے تکافل کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ضروری ہے کہ وقف اور اس سے متعلقہ امور کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ ورنہ تکافل نظام کو سمجھنے پر قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہمارا آج کا موضوع وقف نہیں ہے بلکہ تکافل سسٹم کی ایک امتیازی خوبی سر پلس ہے ۔سر پلس کو سمجھنے سے قبل وقف فنڈ، اس کی حیثیت اور وظائف کو سمجھنا ضروری ہے۔
جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ وقف کے لیے ضروری ہے کہ وہ دائمی ہونے کے ساتھ ساتھ کسی کی ملکیت میں بھی نہ ہو وہ خالص اللہ تبارک و تعالی کی ملکیت میں ہوتا ہے۔ اسی لیے ہر وقف کے لیے لازم ہے کہ اس کا انتظام اور انصرام چلانے کے لیے اس کا ایک نگران یا متولی ہو جو وقف کو واقف کی شرائط کے مطابق چلاتا رہے اور انہی شرائط کے مطابق وقف سے فائدہ اٹھانے کا حق رکھنے والے استفادہ کرتے رہیں۔
اس بات کو یقینی بنانا کہ وقف کی شرائط کے مطابق ہر مستحق کو اس کا حق مل رہا ہے یہ وقف کے متولی یا ٹرسٹی کی ذمہ داری ہے۔ اسی وجہ سے تکافل نظام میں وقف فنڈ قائم کرتے وقت باضابطہ طور پر ایک وقف ڈیڈWaqaf Deed بنائی جاتی ہے جس میں وہ مخصوص شرائط ہوتی ہیں جن پر پورا اترنے والے حضرات کو ہی وقف فنڈ فائدہ پہنچاتا ہے۔چونکہ تکافل کمپنی بطور متولی اور ٹرسٹی کے اس وقف فنڈ کا انتظام و انصرام چلاتی ہے اس لیے تکافل کمپنی پابند ہوتی ہے کہ وہ ان طے شدہ شرائط پر عمل کو یقینی بنائے اسی وجہ سے کمپنی پر ایک آزاد اور خود مختار شرعیہ بورڈ مانیٹرنگ کرتا ہے جودوران سال وقتا فوقتا بوقت ضرورت کمپنی کی رہنمائی اور اصلاح کا فریضہ سر انجام دیتا رہتا ہے اور ہر سال اس حوالے سے اپنی آڈٹ رپورت بھی شائع کرتا ہے۔
وقف کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک شخص معنوی ہوتا ہے اس حیثیت سے وہ اپنا الگ سے وجود رکھتا ہے اور اس میں بعض شخص حقیقی والے اوصاف پائے جاتے ہیں جیسا کہ وہ کسی چیز کا مالک بن سکتا ہے وہ دائن اور مدیون یعنی قرض دینے اور لینے والا بن سکتا ہے وقف مدعی اور مدعا علیہ بن سکتا ہے ایسی ہی خصوصیات کی بنا پر’’ وقف ‘‘کو شخص قانونی تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے وقف میں آنے والی ہر قسم کی رقوم تکافل کمپنی کی نہیں بلکہ وقف فنڈ کی ملکیت میں چلی جاتی ہیں کہنے کو تویہ ایک جملہ ہے لیکن حقیقت میں اس فن کے ماہرین جانتے ہیں کہ اس ایک جملے کے فرق نے تکافل اور انشورنس میں کیسے زمین آسمان کا فرق ڈال دیاہے۔ اس ’’وقف‘‘ کے تصور نے نہ صرف یہ کہ انشورنس میں پائے جانے والے سود، قمار اور غرر کوتکافل میں ختم کر دیا بلکہ پروٹیکشن فنڈ کی مد میں جو کئی کئی ملینز اور بلینز کی بچت انشورنس کمپنیوں کو ہوتی ہے تکافل کمپنی اس سے محروم رہ جاتی ہے ۔ اس رقم سے فنڈ کے ممبران حسب شرائط فائدہ اٹھاتے ہیں چوں کہ اسلامی نقطہ نظر سے وقف اللہ کے سوا کسی کی ملکیت میں نہیں ہو سکتا اسی وجہ سے تکافل کمپنی کے پورٹ فولیوں میں وقف فنڈ میں موجود رقم شامل نہیں کی جاسکتی۔ وقف کی ان ہی خصوصیات کی بناء پر پاکستان کے علماء کرام نے انشورنس کے متبادل نظام کے لیے ’’تبرع‘‘ کے بجائے ’’ وقف‘‘ کا انتخاب کیا کیوں کہ وقف میں تبرع کی بنسبت وسعتیںFlexibilities زیادہ ہیں۔
تکافل سسٹم میں وقف فنڈ کے ذرائع آمدن اور اخراجات حسب ذیل ہوتے ہیں۔
وقف فنڈ کے ذرائع آمدن
(۱)۔۔۔ شرکاء تکافل سے وصول شدہ زر تعاون
(۲)۔۔۔ ری تکافل آپریٹر سے حاصل شدہ کلیمز
(۳)۔۔۔ وقف فنڈ کی سرمایہ کاری سے حاصل شدہ نفع
(۴)۔۔۔ وقف فنڈ کو دیا جانے والا کوئی بھی عطیہ
(۵)۔۔۔فنڈ کے خسارے کی صورت میں حاصل کرد ہ قرض حسنہ
وقف فنڈ کے اخراجات
(۱)۔۔۔ شرکاء تکافل کے کلیمز کی ادائیگی
(۲)۔۔۔ ری تکافل کے اخراجات
(۳)۔۔۔تکافل آپریٹر کی فیس
(۴)۔۔۔ فنڈ کی سرمایہ کاری کے نتیجہ میں تکافل آپریٹر کا نفع میں حصہ
(۵)۔۔۔قرض حسنہ کی واپسی
(۶)۔۔۔ عطیات و خیرات کی مد میں ادا کی گئی رقم
(۷) سر پلس کا وہ جصہ جو ممبرز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
ہمارا آج کا موضوع وقف فنڈ کے اخراجات میں شامل ساتواں پوائنٹ ہے۔یعنی سر پلس Surplusکا وہ حصہ جو ممبر زمیں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔سرپلس کو آسان الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ہر مالی سال کے ختم ہونے پر وقف فنڈ سے کلیمز اور دیگر جملہ اخراجات کی ادائیگیاں کرنے کے بعد دیکھا جاتا ہے کہ ان تمام ادائیگیوں کے بعد فنڈ میں کچھ رقم بچی ہے یا نہیں اگرتو اخراجات کے بعد رقم بچی ہے تو اس بچت کوSurplusکہا جاتا ہے۔اور اگر رقم نہیں بچی تو اس کوDeficitکہا جاتا ہے۔گویا سر پلس وقف فنڈ کی سالانہ بچت کا نام ہے۔چوں کہ وقف فنڈ شخص معنوی ہونے کی حیثیت سے اس میں آنے والی رقم کا خود مالک ہوتاہے کمپنی یا ممبران تکافل اس رقم کے مالک نہیں ہو تے البتہ کمپنی کو فنڈ کے نگران اور متولی ہونے کے حیثیت سے اس سرپلس میں شریعہ بورڈ کی نگرانی میں چند ایک مخصوص اختیارات حاصل ہوتے ہیں جیسا کہ کمپنی
(۱) ۔۔۔کسی ناگہانی حادثے کے لئے کچھ رقم رکھ دے۔
(۲)۔۔۔ کچھ رقم خیرات کر دے۔
(۳)۔۔۔کچھ رقم اگر چاہے تو مستقبل کی ضروریات کے لیے واپس فنڈ میں جمع کرا دے
(۴)۔۔۔کچھ رقم ممبرز میں تقسیم کر دے
ہر سال کے اختتام پر سر پلس کا اعلان اصل میں وقف پول کی گروتھ کو ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔اگر ہر سال اعلان کردہ سر پلس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وقف فنڈ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے ۔ (مفتی شمشاد احمد  تکافل کنسلٹنٹ)

Tags:

This is a unique website which will require a more modern browser to work! Please upgrade today!