Our Blog

مارکیٹنگ اسلام کی نظر میں

 

دنیا میں جتنے لوگ کاروبار کر رہے ہیں ، وہ سب اپنے کاروبار کی تشہیر یا مارکیٹنگ ضرور کرتے ہیں تاکہ کاروبار کے لئے خریدار حاصل ہوں جبکہ اسلام کے احکامات کے مطابق مارکیٹنگ کا مقصد خریداروں کو اپنے کاروبار سے متعلق مفید معلومات فراہم کرنا ۔ چنانچہ موجودہ مارکیٹنگ میں ہر آدمی اپنے کاروبار کے لئے تشہیر کے مختلف طریقے سوچتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اُس کی تشہیر میں ایسے طریقے استعمال ہوں کہ جو اِس سے پہلےکوئی اور نہ کرسکا ہو۔ کبھی اپنے کاروبار کی تشہیر اخبارات میں اشتہارات وغیرہ سے کی جاتی ہے، کبھی مختلف تجارتی نمائشوں میں جگہ حاصل کرکے اپنے کاروبار کی تشہیر کی جاتی ہے ۔ کبھی کوئی سکیم لائی جاتی ہے تاکہ خریدارمتوجہ ہوں۔ اگر یہ سار ے اعمال اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں ہوں تو ٹھیک ہیں

کاروبار کی مارکیٹنگ کرنا شروع زمانے سے ہی چلا آرہا ہے ۔ البتہ اُس کی صورتیں مختلف ہوا کرتی تھیں۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ جب اپنا سامانِ تجارت دوسرے ممالک سے لایا کرتے تھے تو وہ دف بجاکر لوگوں کو متوجہ کیا کرتے تھےاور اپنی آمد کی اطلاع کیا کرتے تھے تاکہ لوگ آ کر اپنا مطلوبہ سامان خرید لیں ۔ اِسی طرح بعض دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے غلاموں کے ذریعہ اپنی آمد کے اونچے اونچے اعلانات کروایا کرتے تھےاور لوگ سمجھ جایا کرتے تھے کہ کون سامان لے کر آیا ہے ۔ پھر بتدریج وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اِس سلسلے میں ترقی آتی گئی اور نت نئے طریقے ایجاد ہونے لگے۔ آج کل کے دور میں مارکیٹنگ میں مزید نکھار آگیا ہے اور اِس کے لئے مختلف اور جدید ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں ۔ نیز موجودہ دور میں میڈیا کی ترقی کے باعث مصنوعات کی مارکیٹنگ ایک انتہائی منافع بخش کاروباربھی بن گیا ہے ۔ ہر بڑی کمپنی اِس مد میں ایک بہت بڑی رقم خرچ کرتی ہے اور اِس کے ذریعے اپنی سیل بڑھاتے ہیں۔

مارکیٹنگ بذاتِ خود اسلام میں ممنوع نہیں ہے لیکن جب اِس میں غیر اسلامی افعال شامل ہوجائیں تو پھر وہ غیر اسلامی افعال ممنوع ہوجائیں گے۔ مثلا کسی بھی چیز کی مارکیٹنگ کے لئے ضروری ہے کہ وہ متعلقہ چیز حلال ہو ۔ گر وہ حرام ہوگی تو اُس کی مارکیٹنگ جائز نہیں ہوگی اور نہ ہی اُس کی آمدنی جائز ہوگی ۔رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس چیز کا کھانا اور پینا حلال نہیں ، اُس کی قیمت بھی حلال نہیں ہوتی۔ اِسی طرح اگر کسی چیز کی تشہیر کی جارہی ہو لیکن اُس چیز کی قیمت یا کوئی خصوصیت صحیح واضح طور پر نہ بتائی جارہی ہو تو یہ فعل درست نہیں ہوگا۔ اسلام میں دھوکہ اور فراڈ کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں ہے ، یہاں تک کہ میدان ِ جنگ میں بھی دھوکہ دینا جائز نہیں ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن وہ ہے کہ جس سے لوگوں کے اموال اور اُن کی جانیں محفوظ ہوں۔

بسا اوقات اپنے کاروبار کی مارکیٹنگ کرتے ہوئے ایسے دعوے کیے جاتے ہیں کہ جو یا تو ممکن ہی نہیں ہوتے یا پھر وہ وقوع پذیر نہیں ہوتے ۔ مثلا کسی لیکویڈ وِم کے متعلق یہ دعوی کرنا کہ اِس کا ایک قطرہ ہی پورے برتن کی صفائی کے لئے کافی ہے یا پھر کسی شیمپو کے بارے میں یہ دعوی کرنا کہ یہ بالوں میں سے خشکی کو بالکل ختم کردیتا ہے جبکہ شیمپو کے استعمال سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا ۔ اِس طرح کے دعوے مارکیٹنگ میں کرنا بالکل جائز نہیں ہیں بلکہ یہ جھوٹ اور دھوکہ میں آتے ہیں ۔ تجارتی کمپنیز کی کوشش ہوتی ہے کہ ہماری مارکیٹنگ میں ایسی باتیں پائی جائیں تا کہ گاہک خود چل کر آجائے اور اِس کے لئے اخلاقیات، سچ اور دیانت داری کی بالکل فکر نہیں کی جاتی جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لا ضرر و لاضرار (کاروبار میں نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ) ۔

مارکیٹنگ میں خواتین کو نامناسب انداز و اطوار اور لباس اختیار کرنے پر مجبور کرنا بھی ایک جدید طریقہ بن گیا ہے ، جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ خواتین کو ویسے ہی پردے میں رہنے اور رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ مارکیٹنگ میں خواتین جتنی عیاں ہوں گی اُتنا ہی اُنہیں قبول کیا جائے گا ۔ پھر اِن کی تصاویر بھی ایسے انداز اور طریقے سے کھینچی جاتی ہے کہ جسے دیکھ کر ایک شریف انسان بھی شرما جائے ۔ تصویر سازی بذاتِ خود اسلا م میں ایک ممنوع عمل ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص تصویریں بناتا ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالی اُس سے فرمائیں گے کہ اب اِس میں جان بھی ڈال اور یہ کام وہ کبھی نہ کرسکے گا ۔ اسی طرح سیلز گرل کو مردوں کی نسبت زیادہ ترجیح دی جاتی ہے تاکہ اُن کو دیکھ کر زیادہ سے زیاد ہ خریدار اُن کی دکان یا سٹور پر آئیں ۔

موجودہ دور میں مارکیٹنگ کا سب سے جدید انداز برانڈنگ کا ہے کہ جس میں تجارتی ادارے اپنے صارفین کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور انہی جذبات کو سامنے رکھ

کر برانڈنگ کی جاتی ہےتاکہ لوگ جذبات سے متاثر ہو کر وہ مصنوعات خرید لیں۔ یہ طریقہ کار بھی درست نہیں ہے، اگر کسی کو جذبات میں بالکل مغلوب کر دیا جائےاور اُس سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی جائےاور وہ اپنی عقل سے فیصلہ نہ کر سکے۔      اسی طرح اپنی مارکیٹنگ مہم میں اتنا روپیہ پیسہ نہیں لگانا چاہیے کہ اس کا بوجھ خریدار پر پڑے او صارف کو اِس کی قیمت چکانی پڑے ۔اس کے علاوہ اپنی مارکیٹنگ مہم میں بھی ایسی کوئی ترغیب نہیں چلانی چاہیے کہ خریدار کے ماہانہ اخراجات کا   بجٹ متاثر ہو۔ ایک حدیث کے مطابق جب انسان اپنے کسی مسلمان بھائی کی بھلائی کی فکر کرتا ہے تو اللہ تعالی اُس کی مدد و نصرت فرماتا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Tags:

This is a unique website which will require a more modern browser to work! Please upgrade today!