Our Blog

کیا آپ کا کاروبار اسلامی اصول ِ تجارت کے مطابق ہے؟

 

موجودہ دور میں وسیع پیمانے کی تجارت و صنعت نے معاملات کی نئی نئی سورتیں اور اُن سے متعلق نئے نئے مسائل پیدا کئے ہیں جن پر دنیا بھر میں غور ہورہا ہے اور اُن کے مختلف حل سامنے لائے جارہے ہیں ، یہاں تک کہ تجارت و معیشت نے مستقل علوم کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ جن کی تعلیم مختلف اداروں میں دی جارہی ہے۔ لیکن یہ سب سرمایہ دارانہ نظام کے زیرِ اثر ہے جس کا مقصد ہی پرافٹ اور نفع کا زیادہ سے زیادہ حصول ہے۔ چنانچہ سرمایہ دارانہ نظام میں کاروبار کرنے کے لئے کوئی بھی چیز منتخب کی جاسکتی ہے خواہ وہ ایک عورت کا جسم ہی کیوں نہ ہو۔اسی طرح اِس مغربی نظام ِ تجارت نے انسانوں میں خود غرضی اور لالچ جیسی عادات کو پروان چڑھایا۔

اِس کے برعکس اسلام نے تجارت و معیشت کا ایک اصول و ضابطہ دیا ہے اور مسلمانوں کو اِ س ضابطے کا پابند بنایا ہے۔ اسلام نے ہر مسلمان کو تجارت اور کاروبار کرنے کی اجازت دی ہے۔کاروبار ایک ذریعہ معاش ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سنت بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت ملنے سے قبل 12 سال تک کاروبار کیا اور نبوت ملنے کے بعد بھی کاروبار جاری رکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاروباری سفر کا آغاز بچپن میں ہی اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ شروع کردیا تھا۔ ذریعہ معاش میں سب سے افضل ذریعہ تجارت ہے ۔ قرآن و حدیث میں تجارت کے بہت سےفضائل آئے ہیں ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک بڑی تعداد نے تجارت کی ۔ اِس کے بعد کے دور میں بھی مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد تجارت کرتی رہی ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بازار میں گئے تو دیکھا کہ بازار میں بیٹھے ہوئے ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے جو کہ باہر سے آئے ہوئے ہیں تو آپ کو بہت فکر ہوئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:

علیکم بالتجارۃ لاتفتنکم ھذہ الحمراء علی دنیاکم(التراتیب الاداریۃ)

تجارت کو ضروری سمجھو ،یہ سرخ لوگ (عجمی) تمہاری دنیا پر امتحان نہ بن جائیں

یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فراست تھی کہ بروقت ہی تنبیہ فرمادی اور بعد کے حالات نے اِس تنبیہ کو درست قرار دیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اِسی غفلت اور کوتاہی کا انجام ہےلیکن اِس کے ساتھ ساتھ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ فکر بھی تھی کہ کاروبار کرنے والوں کو اسلامی احکام ِ تجارت سے آگاہی بھی ہونی چاہیئے تاکہ یہ لوگ حرام نہ کھلادیں ۔ اِس کے لئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ باقاعدہ امتحان لیاکرتے تھے اور ایسے لوگوں کو بازار میں کاروبار کرنے سے روک دیا کرتے تھے جو مسائلِ تجارت سے ناواقف ہوتے تھے۔ اِس کے بعد امام مالک ؒ بھی ایسے لوگوں کو کاروبار سے روک دیا کرتے تھے جو اسلامی احکام ِ تجارت سے ناواقف ہوتے تھے۔

آج کے دور میں بھی اگر ہم اپنے ارد گرد موجود کاروبار میں غور کریں تو ہمیں بہت سی ایسی باتیں نظر آئیں گی کہ جو اسلام کے احکام ِ تجارت کے بالکل خلاف ہیں۔ مثلاََ

1۔ سود 2۔ رشوت                3۔ ملازمین کی حق تلفی                  4۔ غلط اشتہارات                5۔ سبزی اور پھل کی تجارت میں بعض مسائل

6۔ ماپ تول میں کمی            7۔ زکوۃ کا درست طریقے سے ادا نہ کرنا                8۔ حرام اشیاء کی کسی بھی صورت میں فروخت             9۔ انشورنس

یہ چند مسائل ہیں وگرنہ ایسے بہت سے مسائل ہیں جن سے تجارت کی آمدنی حرام ہوجاتی ہے۔ مثلاََ اگر کسی کو وراثت میں کوئی جائیدا یا نقد رقم ملی اور اِس وراثت میں سے بہن کو حصہ نہ دیا تو یہ کاروبار صحیح نہیں ہوگا۔ آڑھت کے کاروبار میں بہت سی شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں ۔ جن کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔

کیا آپ اپنے کاروبار سے مطمئن ہیں؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا کاروبار اسلامی اصولوں کے مطابق ہے؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا کاروبار آپ کی عبادت ہے؟

کیا آپ نے کبھی کسی شریعہ کنسلٹنٹ سے راہنمائی لی ہے ؟

آئیے !

اپنے کاروبار کا شریعہ آڈٹ کروائیں اور اپنے کاروبار سے مطمئن ہو جائیں

شریعہ آڈٹ آپ کے کاروبار میں ترقی اور برکت کا ضامن ہے۔

 

Tags:

This is a unique website which will require a more modern browser to work! Please upgrade today!