Our Blog

کیا قربانی ضروری ہے یا غریبوں کی مدد؟

 

آج پاکستان میں غربت کی شرح انتہائی زیادہ ہے۔ امیر کی امارت اور غریب کی غربت کی رفتار انتہائی تیز ہے۔ پاکستان میں بسنے والا ہر آدمی خواہ امیر ہو یا غریب، سبھی پریشان ہیں۔ امیر اپنی دولت بڑھانے کے لئے اور غریب اپنے بھوکے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے۔ امیر کو اپنی دولت کی خود نمائی کا کوئی موقع مل جائے تو وہ اُسے ضائع نہیں کرتا خواہ اُس موقع کو حاصل کرنے کے لئے کتنی دولت ضائع ہوجائے۔ پرواہ نہیں !!!

غریب مرتا ہے تو مرے۔ اُس کی جان سے ۔۔۔۔۔۔۔اُسے کیا پرواہ؟؟؟

اب عید کا موقع آرہا ہے غریبوں کے پاس کھانے اور گھر کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے وسائل نہیں اور امیر پریشان ہے کہ وہ اچھے سے اچھا جانور خریدے اور اپنی سوسائٹی میں مہنگا جانور خریدنے کا اعزاز حاصل کرے۔ ہر سال لوگ لاکھوں جانور کا خون اپنے شوق کی تکمیل کے لئے یونہی بہا دیتے ہیں جس کا کوئی مقصد اور فائدہ نہیں ۔ جانور الگ سے ضائع ہوتے ہیں ، آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے، گندگی میں زیادتی ہوتی ہے۔ مولوی اپنے مدرسے پالنے کے لئے لوگوںکو جانور قربان کروانے کے لئے ترغیب دے رہے ہیں ۔پھر یہی مدرسے معصوم بچوں کی ذہن سازی کرکے ملک کے حالات خراب کرنے میں حصہ ڈالتے ہیں ۔ اللہ ہی ان مولویوں سے ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے۔ ان مولویوں نے ہمارے ملک کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے۔

کیا اُن معصوم جانوروں کا کوئی حق نہیں کہ جنہیں ہم ہر سال یونہی اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھاتے رہتے ہیں۔قربانی فرض تو نہیں ہے ، بس ایک سنت ہے جو اَب ایک رسم ِ خود نمائی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ بہت سے صحابہ کرام نے قربانی سنت ہونے کی وجہ سے نہیں کی ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو سنت کہا ہے۔

بحیثیت مومن اور مسلمان ہر بے مقصد عمل سے بچنا اور اپنی اولاد کی تربیت عین اللہ کی منشا کے مطابق کرنا ہی تو اتباع دین ہے، آج آپ اپنے بچوں کی ضد یا خواہش کو بڑے خوبصورت انداز میں تبدیل کر سکتے ہیں، اپنے بچوں کو اپنے کسی قریبی غریب ترین گھر میں لے جائیں، اور انکو اس گھر والوں کی ضروریات اور رہن سہن دکھائیں ، واپس آ کر اپنے بچوں کو اپنے گھر اور رہن سہن کا مشاہدہ کروائیں، اور پھر اپنے بچوں کو اس بات پر قائل کریں کہ یہ 20000 یا 40000 ہزار کا بکرا ہم ایک دن میں پکا کر کھا جائیں گے، اور اگر یہی بیس تیس ہزار اگر ہم ان غریبوں کو دے دیں جس سے وہ اپنی مہینے بھر کی تمام خواھشات پوری کر سکیں گے ، تو الله کس بات پر زیادہ خوش ہوگا ؟؟؟ بچوں کے جواب پر جو یقیناً اس غریب گھرانے کے حق میں ہوگا۔

عید سے ایک دن پہلے 3 یا چار یا پانچ کلو گوشت اپنے گھر میں پکانے کے لیے لا کر رکھیں، اور باقی پیسے اپنے بچوں کے ساتھہ اس غریب گھرانے کو دے آئیں، انکے چہروں پر آئی خوشی آپکے بچے ساری زندگی یاد رکھیں گے اور آپ عید والے دن خریدا ہوا گوشت کھاتے ہوۓ جو مزہ اور لذت محسوس کریں گے وہ شاید کسی عید پر آپنے اس سے پہلے محسوس نہیں کی ہوگی ۔ اسی ایک عمل میں آپکے پہلے سوال کا جواب بھی موجود ہے کہ اس بے مقصد رسم کو کیسے ختم کیا جائے ؟؟؟ آج آپ ایک انسان ہونگے جو اس رسم کو چھوڑیں گے 20 سال بعد آپکے 4 بچے اپنے 16 بچوں کو یہ فلسفہ سمجھا رہے ہونگے قربانی کا،،،،،،،، گڑ ڈالنا شروع تو کریں، زیادہ گڑ ڈالنے والے الله بڑھاتا چلا جاتا ہے، یہی دین الہی کا حقیقی منشا ہے۔

یہ ہیں وہ فاسد اور غلط خیالات جو آج کل پڑھے لکھے اور دین سے جاہل لوگ اپنی کمیونٹی میں پھیلا رہے ہیں ۔ یہ لوگ دین کو اپنی عقل کے مطابق چلانا چاہتے ہیں تاکہ دنیا کے سامنے ہماری سُبکی نہ ہو اور دنیا والے ہمیں بے وقوف اور دقیانوس نہ سمجھ بیٹھیں ۔ اُن کے خیال میں ہماری ترقی میں رکاوٹ یہی وہ رسوم و رواج ہیں۔ Top of Form ایک بات یاد رکھیں یہ دین جو کہ مذہب ِ اسلام ہے ، یہ ہماری عقل کا پابند نہیں ہے بلکہ ہماری عقل اسلام کی پابند ہوگی۔

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نےایسے ہی سوالات کا بہت عجیب جواب دیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ جب انسان روحانیت سے غافل ہوکر صرف مادی خواہشات کی بھول بھلیوں میں پڑ جاتا ہے ۔ مادہ و صورت ہی اُس کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے اور علم و ہنر اُس کا مقصد بن جاتا ہے اور اللہ جل شانہ کی قدرت ِ کاملہ اور اُس کا عجیب و غریب نظام اُس کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے تو اُس کو ساری ہی عبادات بے جان رسوم محسوس ہونے لگتی ہیں خصوصاََ قربانی کا مسئلہ اُس کو ایک اقتصادی مشکل بن کر سامنے آتا ہے ۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ قوم کا اتنا روپیہ جو جانوں کے ذبیحہ پر ہر سال خرچ ہوجاتا ہے اور تین روز گوشت کھالینے کے سوا اس کا کوئی مفاد نظر نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔ انسان کی روٹی اور پیٹ کا مسئلہ بھی امن و سکون کے ساتھ صحیح طور پر اُس وقت حل ہوسکتا ہے جب کہ انسان انسان بن جائے ۔۔۔۔۔۔ مشاہدہ و تجربہ شاہد ہے کہ اخلاق و اعمال کی روشنی کے لئے اللہ تعالی کے خوف اور اور اُس کی رضا جوئی سے بڑھ کر کوئی کامیاب نسخہ نہیں ۔ اللہ تعالی کی اطاعت اور فرمانبرداری کا جذبہ ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو اپنی خلوتوں میں بھی جرائم سے باز رکھتا ہے اور قربانی اِس جذبے کو قوی کرنے میں خاص اثر رکھتی ہے۔ قربانی کا مقصد گوشت کھانا یا کھلانا ہرگز نہیں بلکہ ایک شرعی حکم کی تعمیل اور سنت ِ ابراہیمی یادگار کو تازہ کرکے جذبہ ایثار و قربانی کی تحصیل ہے۔ قرآن کریم نے خود اِس حقیقت کو اِس طرح بیان کیا ہے :

لن ینال اللہ لحومھا و لادماءھا ولکن ینالہ التقویٰ منکم (پارہ 17)

اللہ کے پاس ان قربانیوں کے گوشت اورخون نہیں پہنچتے ہاں تمہارا تقوی یعنی جذبہ اطاعت پہنچتا ہے۔

قربانی ایک عبادت ہے اور عبادات کے بارے میں اسلام کا یہ اصول ہے کہ اُن میں اجتہاد نہیں ہوسکتا بلکہ عبادات اُسی طریقے کے مطابق کی جائیں گی جو طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوگا۔ اُس طریقے سے ہٹ کر کی جانے والی عبادت کا کوئی ثواب نہیں ہوگا ۔

حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیۃ نے اس ھوالے سے بہت خوبصورت بات فرمائی ہےکہ اس قربانی کے ذریعہ در حقیقت جذبہ یہی پیدا کرنا مقصود ہے کہ جب اللہ تعالی کی طرف سے کوئی کام کرنے کا حکم آجائے تو انسان اپنی عقل کو طاق میں رکھ کر اللہ کے حکم کی پیروی کرے۔

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَھُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ ۭ

وَمَنْ يَّعْصِ اللّہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا 36؀ۭ (الاحزاب 36)

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کر دیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہو گیا

قربانی کے بارے میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔

عن أنس قال ضحی النبي صلی اللہ علیہ وسلم بکبشين أملحين أقرنين ذبحہما بيدہ وسمی وکبر ووضع رجلہ علی صفاحہما (مسلم)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے دو سفید سینگ والے دنبوں کی قربانی ذبح کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ اور تکیبر کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کرتے وقت دونوں دنبوں کی گردنوں کے ایک پہلو پر اپنا پاؤں مبارک رکھا۔

 

عن عائشۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أمر بکبش أقرن يطأ في سواد ويبرک في سواد وينظر في سواد فأتي بہ ليضحي بہ فقال لھا يا عائشۃ ھلمي المدیۃ ثم قال اشحذيھا بحجر ففعلت ثم أخذھا وأخذ الکبش فأضجعہ ثم ذبحہ ثم قال باسم اللہ اللھم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمۃ محمد ثم ضحی بہ(مسلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا سینگ والا دنبہ لانے کا حکم فرمایا کہ جو سیاہی میں چلتا ہو اور سیاہی میں باٹھ ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو اور ایسا ہی دنبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قربانی کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا اے عائشہ چھری لاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری پکڑی اور دنبے کو پکڑ کا اسے لٹا دیا پھر اسے ذبح فرما دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بِسْمِ اللَّہِ اللَّھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ) اے اللہ محمد کی طرف سے اور محمد کی آل کی طرف سے اور محمد کی امت کی طرف سے یہ قربانی قبول فرما پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح قربانی فرمائی۔

 

عن عائشۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلی اللہ من إھراق الدم إنھا لتأتي يوم القيامۃ بقرونھا وأشعارھا وأظلافھا وأن الدم ليقع من اللہ بمکان قبل أن يقع من الأرض فطيبوا بھا نفسا

یوم نحر (دس ذوالحجہ) کو اللہ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں (یعنی قربانی سے) قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں بالوں اور کھروں سمیت آئے اور بے شک اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں مقام قبولیت حاصل کر لیتا ہے پس اس خوشخبری سے اپنے دلوں کو مطمئن کر لو۔

 

عن أبي ھريرۃ أن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم قال من کان لہ سعۃ ولم يضح فلا يقربن مصلانا (ابن ماجہ)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کو وسعت ہو پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔

 

عن زيد بن أرقم قال قال أصحاب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم يا رسول اللہ ما ھذہ الأضاحي قال سنۃ أبيکم إبراھيم قالوا فما لنا فيھا يا رسول اللہ قال بکل شعرۃ حسنۃ قالوا فالصوف يا رسول اللہ قال بکل شعرۃ من الصوف حسنۃ (ابن ماجہ)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ فرمایا تمہارے والد ابراہیم کی سنت ہیں۔ انہوں نے عرض کیا ان میں ہمیں کیا ملے گا ؟ فرمایا ہر بال کے بدلہ نیکی۔ عرض کیا اور اون میں ؟ فرمایا اون کے ہر بال کے بدلہ (بھی) نیکی۔

 

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اَقَامَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم بِا لْمَدِیْنَۃِ عَشْرَ سِنِیْنَ یُضَحِّیَ۔ (رواہ الترمذی)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور (ہر سال قربانی) کرتے تھے۔

 

کیا بقر عید کے دن جانور قربان کرنا افضل ہے یا غریبوں کی مدد کرنا؟

بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ اگر ہم عید کے دن جانور قربان کرنے کے بجائے کسی غریب کی مدد کر دیں تو یہ زیادہ بہتر رہے گا مگر اوپر درج احادیث میں سے ایک حدیث میں یہ ہے کہ ذو الحجہ کی دس تاریخ کو اللہ کو قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل نہیں پسند۔ پھر ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ عید کے دن قربانی کے بجائے غریبوں میں پیسے تقسیم کرنا زیادہ افضل ہے۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھنے کی ہے کہ دین کے معاملات میں عقل سے زیادہ تابعداری کی ضرورت ہے۔ عبادت کے لئے اللہ اور اللہ کے رسول کا طریقہ دیکھنا ہوگا نہ کہ اپنی رائے۔ دین کے ہر معاملے میں اجتہاد ہوبھی نہیں سکتاخصوصاََ عبادات کے معاملے میں اس کی بالکل گنجائش نہیں ہے۔ اگر عید کے دن ہم نے غریبوں کی مدد کرنی ہے تو اس کا طریقہ بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔

 

عن سلمۃ بن الأکوع أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من ضحی منکم فلا يصبحن في بيتہ بعد ثالثۃ شيا فلما کان في العام المقبل قالوا يا رسول اللہ نفعل کما فعلنا عام أول فقال لا إن ذاک عام کان الناس فیہ بجھد فأردت أن يفشو فیہم (مسلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو آدمی قربانی کرے تو تین دنوں کے بعد اس کے گھر میں اس کی قربانی میں سے کچھ بھی نہ رہے تو جب اگلا سال آیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اس طرح کریں جس طرح پچھلے سال کیا تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں کیونکہ اس سال ضرورت مند لوگ تھے تو میں نے چاہا کہ قربانیوں کے گوشت میں سے ان کو بھی مل جائے۔

یہ ہے وہ اصل طریقہ عید کے دن غریبوں کی مدد کرنے کا ۔ غریبوں کو بھی بقر عید کے دن گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے۔ کیا نقد پیسے دینے سے اُن کی یہ خواہش پوری ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ پیسے ملنے کے بعد پھر دوسری اہم ضروریات کی طرف توجہ چلی جائے گی۔ نیز قربانی میں اصل مقصد خون بہانا ہے نہ کہ غریبوں کی مدد بلکہ غریبوں کی مدد اس قربانی کی ایک ثانوی معاملہ ہے۔اگر ہم آج کے مقبلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں غربت اور فقر و فاقہ زیادہ تھا لیکن کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ بقر عید کے دن قربانی کی بجائے غریبوں کی نقد امداد کر دو بلکہ غریبوں کی مدد قربانی کے گوشت سے کرنے کی ترغیب و دعوت دی تاکہ عید کی اس خوشی میں وہ بھی قربانی کا گوشت کھا کر شریک ہوسکیں ۔

قربانی ایک ایسا عمل اور ایک ایسی عبادت ہے کہ جس سے غریبوں کا روزگار وابستہ ہے۔ کتنے غریب ایسے ہوتے ہیں کہ جو عید کے اس موسم کا انتظار کرتے ہیں اور اچھاخاصا زر ِ مبادلہ اپنے گھروں کو لے کر جاتے ہیں۔ کیا قربانی کے عمل کی مخالفت کر کے ہم اُن غریبوں کے رزق کو روکنے کی کوشش نہیں کر رہے؟؟؟

قربانی کی بجائے غریبوں کی مدد کرنے کی مثال یوں ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ نماز و روزے کے بجائے صدقہ کردیا جائے تو زیادہ ثواب ہوگا۔ غریبوں کی مدد کا ثواب ضرور ہوگا لیکن نماز چھوڑنے کی سزا بھی ہوگی۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔ (آمین) قربانی کے واجب یا سنت میں اختلاف ہوسکتا ہے لیکن یہ کہیں بھی نہیں آیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قربانی نہیں کی بلکہ اُس کے پیسے صدقہ کردیے ہیں یا کہیں اور خرچ کردیے ہیں ۔ یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ممکن ہی نہیں کہ وہ ایک کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دس سال دیکھیں اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخصت ہونے کے بعد اُس عمل کو یہ کہہ کر چھوڑ دیں کہ یہ ایک سنت ہی ہے۔ یہ کام ہمارے جیسے گناہ گار لوگ تو کرتے ہیں مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کبھی ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔ وہ تو وہ کام بھی کیا کرتے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ کیا ہو۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو قربانی کے جانوروں کی باقاعدہ پرورش کیا کرتے تھے اور بخاری شریف کی احادیث بھی ہیں بلکہ ایک دفعہ ایک ،وقع پر عید کے دن قربانی کے لئے کوئی بکرا نہیں مل رہا تھا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پریشان ہوگئے تو ایک صحابی نے اُن کی یہ مشکل یوں آسان کی کہ انہیں بتایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اگر دنبہ جس کی عمر چھ ماہ کی ہو تو اُس کی قربانی کی جاسکتی ہے تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دنبوں کی قربانی کی(سنن نسائی)۔

اگر ہم ایک بات دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ایسی باتیں کرنے والے بھائی حدیث کے منکر ہوں گے۔ وہ کبھی بھی آپ کو حدیث کے مطالعے کا نہیں کہیں گے جبکہ حدیث پر ایمان لائے بغیر ایمان مکمل ہی نہیں اور ایسا شخص تمام مسالک اور تمام علماء کرام کے نزدیک متفقہ طور پر کافر ہے۔

کیا ایک سے زائد قربانی بے مقصد ہوتی ہے؟

ایک سوال یہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ ایک سے زائد قربانی کیوں کی جائےجبکہ ہر انسان پر ایک قربانی واجب ہوتی ہے۔ ایک سے زائد قربانی تو بے مقصد اور فضول کام ہے۔

اس کا ایک جواب تو یہ ہی ہے کہ عید کے دن واجب قربانی کے علاوہ جتنی بھی قربانیاں کی جائیں ۔ کوئی بھی ان میں فضول اور بے مقصد نہیں ہوتی بلکہ یہ عین اللہ کی منشاء ہےکیونکہ مذکورہ بالا حدیث سے یہ ہم معلوم کرچکے ہیں کہ عید کے دن اللہ تعالی کو جانور کو خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل پسند نہیں ہے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ جتنے بھی جانور خریدے جائیں گے غریبوں کا بھلا اتنا ہی زیادہ ہوگا۔عید کے اس موسم میں کتنے غریب جانور سے متعلقہ کتنی چیزیں فروخت کرتے نظر آئیں گے۔ کتنے غریب لوگ جانور بیچتے نظر آئیں گے۔ ان کی تو خواہش ہی یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ جانور فروخت ہوں تو وہ زیادہ سے زیادہ نفع اپنے گھروں کو لے کر جائیں۔

تیسرا جواب یہ ہے کہ قربانی کا اصل مقصد خون بہانا ہے تو صدقہ کرنے سے وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔

 

عن أنس بن مالک قال قال النبي صلی اللہ عليہ وسلم يوم النحر من کان ذبح قبل الصلاة فليعد فقام رجل فقال يا رسول اللہ إن ھذا يوم يشتہی فيہ اللحم وذکر جيرانہ وعندي جذعۃ خير من شاتي لحم فرخص لہ في ذلک فلا أدري بلغت الرخصۃ من سواہ أم لا ثم انکفأ النبي صلی اللہ عليہ وسلم إلی کبشين فذبحھما وقام الناس إلی غنيمۃ فتوزعوھا أو قال فتجزعوھا(بخاری)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح کیا ہو وہ دوبارہ کرے، ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آج کے دن گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے اور اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ میرے پاس ایک چھ ماہ کا بچہ ہے، جو گوشت کی دوبکریوں سے بہتر ہے، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، مجھے معلوم نہیں کہ یہ اجازت اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لئے بھی تھی یا نہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو ذبح کیا اور لوگ بکریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو تقسیم کرکے ذبح کردیا۔

کیا یہ ایک اچھا طریقہ نہیں ہے کہ جو اس حدیث میں بیان کیا گیا کہ ایک سے زائد قربانیاں کی جائیں اور اُن کا گوشت غرباء میں تقسیم کیا جائے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی یہی تھا کہ جانور ذبح کرنے کے بعد اُس کا گوشت غریبوں میں بھی تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں ایک ایک آدمی سوسو اونٹوں کی قربانی دیتا تھا۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سو اونٹ کی قربانی دی اور تریسٹھ کی قربانی کا فریضہ خود اپنے دست ِ مبارک سے سر انجام دیا ۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے مقصد عمل کیا ۔ یہ قربانی کا عمل تو بہت پرانا ہے بلکہ ہر امت میں جاری رہا ۔ البتہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں خاص اہمیت حاصل کرگیا ۔ قرآن کریم میں ہے:

ولکل امۃ جعلنا منسکا لیذکروا اسم اللہ علی ما رزقھم من بہیمۃ الانعام (سورۃ الحج)

ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپائیوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالی نے عطا فرمائے۔

اسی طرح قربانی کرنے والوں کو اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ جانور قربان کرنے کے بعد اُس کے گوشت کے تین حصے کریں ۔ ایک حصہ اپنے لئے، ایک حصہ اپنے رشتہ داروں کے لئے اور ایک حصہ غریبوں کےلئے (فتاوی عالمگیری)۔ یہ مستحب طریقہ ہے اور غریبوں کی مدد کے لئے بہت ہی فائدہ مند بھی ہے۔

 

Tags:

This is a unique website which will require a more modern browser to work! Please upgrade today!