<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Al Mostaqeem</title>
	<atom:link href="https://almostaqeem.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://almostaqeem.com</link>
	<description>Businsess Consultant</description>
	<lastBuildDate>Mon, 26 Feb 2018 21:42:56 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=4.2.38</generator>
	<item>
		<title>سرپليس تكافل كا ايك امتيازي وصف</title>
		<link>https://almostaqeem.com/%d8%b3%d8%b1%d9%be%d9%84%d9%8a%d8%b3-%d8%aa%d9%83%d8%a7%d9%81%d9%84-%d9%83%d8%a7-%d8%a7%d9%8a%d9%83-%d8%a7%d9%85%d8%aa%d9%8a%d8%a7%d8%b2%d9%8a-%d9%88%d8%b5%d9%81/</link>
		<comments>https://almostaqeem.com/%d8%b3%d8%b1%d9%be%d9%84%d9%8a%d8%b3-%d8%aa%d9%83%d8%a7%d9%81%d9%84-%d9%83%d8%a7-%d8%a7%d9%8a%d9%83-%d8%a7%d9%85%d8%aa%d9%8a%d8%a7%d8%b2%d9%8a-%d9%88%d8%b5%d9%81/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 24 May 2015 12:44:34 +0000</pubDate>
		<dc:creator><![CDATA[Muhammad Aamir]]></dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://almostaqeem.com/?p=4105</guid>
		<description><![CDATA[<p>پاکستان میں انشورنس کے جائز ، متبادل اور حلال رائج الوقت اسلامی تکافل سسٹم میں بنیادی فرق اسلام کے مقررہ اصول و ضوابط کے مطابق قائم کیا گیا ’’وقف فنڈ‘‘ ہے ۔ اسی وقف کی وجہ سے یہ ممکن ہو پایا کہ انشورنس میں پایا جانے والا سود، قمار اور غرر تکافل میں نہیں پایا [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%d8%b3%d8%b1%d9%be%d9%84%d9%8a%d8%b3-%d8%aa%d9%83%d8%a7%d9%81%d9%84-%d9%83%d8%a7-%d8%a7%d9%8a%d9%83-%d8%a7%d9%85%d8%aa%d9%8a%d8%a7%d8%b2%d9%8a-%d9%88%d8%b5%d9%81/">سرپليس تكافل كا ايك امتيازي وصف</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">پاکستان میں انشورنس کے جائز ، متبادل اور حلال رائج الوقت اسلامی<strong> تکافل سسٹم</strong> میں بنیادی فرق اسلام کے مقررہ اصول و ضوابط کے مطابق قائم کیا گیا ’’وقف فنڈ‘‘ ہے ۔ اسی وقف کی وجہ سے یہ ممکن ہو پایا کہ انشورنس میں پایا جانے والا <strong>سود، قمار اور غرر</strong> تکافل میں نہیں پایا جاتا۔’’<strong>وقف</strong> ‘‘اسلامی فقہ کی ایک مخصوص اصطلاح ہے جس کے لغوی معنی ’’حبس‘‘ یعنی بند کرنے کے ہیں اور اصطلاح میں وقف سے مراد یہ ہے کہ اپنے دائمی نوعیت کے مال کو اپنی ملکیت سے نکال کر اللہ کی راہ میں اس طرح دے دینا کہ اس مال کی ذات تو باقی رہے لیکن اس کا فائدہ لوگوں کو پہنچتا رہے۔چوں کہ وقف شدہ چیز کی ملکیت بندے سے اللہ تعالی کی طرف منتقل ہو جاتی ہے نہ واقف اس کا مالک ہوتا ہے اور نہ ہی بندے یہی وجہ ہے کہ نہ تو واقف نہ تو اسے کسی ہدیہ دے سکتا ہے اور نہ ہی اس کی میراث میں اسے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ البتہ شریعت اسلامیہ نے واقف کو اس بات کی اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنے اس وقف کردہ چیز کے فائدے کو عمومی طور پر تمام لوگوں کے لیے روا رکھے یا مخصوص طبقہ، گروہ، جماعت حتی کہ اپنے خاندان یا اولاد تک کے لیے خاص کر دے۔اس کی طرف سے لگائی گئی ان مخصوص شرائط کی شریعت اسلامیہ نے اس حد تک پاسداری کی ہے کہ فقہاء کرام نے ان کی اہمیت کے پیش نظر ایک مسلمہ اصول شرط الواقف کنص الشارع بیان فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ <strong>واقف کا وقف</strong> میں شرط لگانا صاحب شریعت کے فرمان کی ماند ہے۔<br />
وقف اور عام صدقہ خیرات میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ وقف میں واقف اپنے وقف کردہ مال کے لیے کوئی مخصوص شرائط لگا سکتا ہے جب کہ دیگر صدقہ خیرات کو بغیر کسی شرط کے ہی راہ خدا میں دینا ضروری ہوتاہے۔ وقف میں اس قسم کی وسعت شریعت اسلامیہ نے اسی لیے روا رکھی ہے تا کہ اس کے ذریعہ لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسلامی معاشرے کے صاحب حیثیت افراد کو زیادہ سے زیادہ ابھارا جائے اور ان کے اس عمل پررسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ثواب عظیم کا وعدہ بھی کر رکھا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث شریف میں یہ مضمون آیا ہے کہ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ جب مرجاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے مگر تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا ثواب برابر ملتا رہتا ہے ایک صدقہ جاریہ دوم وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے اور سوم صالح اور نیک اولاد جو اس کے لئے دعا گو رہے۔<br />
<strong>پاکستان میں نظام تکافل</strong> کی بنیاد علماء کرام ا ور اسلامی سکالرز کی مشاورت اور تجاویز کی روشنی میں’’ وقف‘‘ پر رکھی گئی ہے اس لیے تکافل کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ضروری ہے کہ وقف اور اس سے متعلقہ امور کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ ورنہ تکافل نظام کو سمجھنے پر قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔<br />
ہمارا آج کا موضوع وقف نہیں ہے بلکہ تکافل سسٹم کی ایک امتیازی خوبی سر پلس ہے ۔سر پلس کو سمجھنے سے قبل وقف فنڈ، اس کی حیثیت اور وظائف کو سمجھنا ضروری ہے۔<br />
جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ <strong>وقف</strong> کے لیے ضروری ہے کہ وہ دائمی ہونے کے ساتھ ساتھ کسی کی ملکیت میں بھی نہ ہو وہ خالص اللہ تبارک و تعالی کی ملکیت میں ہوتا ہے۔ اسی لیے ہر وقف کے لیے لازم ہے کہ اس کا انتظام اور انصرام چلانے کے لیے اس کا ایک نگران یا متولی ہو جو وقف کو واقف کی شرائط کے مطابق چلاتا رہے اور انہی شرائط کے مطابق وقف سے فائدہ اٹھانے کا حق رکھنے والے استفادہ کرتے رہیں۔<br />
اس بات کو یقینی بنانا کہ وقف کی شرائط کے مطابق ہر مستحق کو اس کا حق مل رہا ہے یہ وقف کے متولی یا ٹرسٹی کی ذمہ داری ہے۔ اسی وجہ سے تکافل نظام میں وقف فنڈ قائم کرتے وقت باضابطہ طور پر ایک وقف ڈیڈWaqaf Deed بنائی جاتی ہے جس میں وہ مخصوص شرائط ہوتی ہیں جن پر پورا اترنے والے حضرات کو ہی وقف فنڈ فائدہ پہنچاتا ہے۔چونکہ تکافل کمپنی بطور متولی اور ٹرسٹی کے اس وقف فنڈ کا انتظام و انصرام چلاتی ہے اس لیے تکافل کمپنی پابند ہوتی ہے کہ وہ ان طے شدہ شرائط پر عمل کو یقینی بنائے اسی وجہ سے کمپنی پر ایک آزاد اور خود مختار شرعیہ بورڈ مانیٹرنگ کرتا ہے جودوران سال وقتا فوقتا بوقت ضرورت کمپنی کی رہنمائی اور اصلاح کا فریضہ سر انجام دیتا رہتا ہے اور ہر سال اس حوالے سے اپنی آڈٹ رپورت بھی شائع کرتا ہے۔<br />
وقف کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک شخص معنوی ہوتا ہے اس حیثیت سے وہ اپنا الگ سے وجود رکھتا ہے اور اس میں بعض شخص حقیقی والے اوصاف پائے جاتے ہیں جیسا کہ وہ کسی چیز کا مالک بن سکتا ہے وہ دائن اور مدیون یعنی قرض دینے اور لینے والا بن سکتا ہے وقف مدعی اور مدعا علیہ بن سکتا ہے ایسی ہی خصوصیات کی بنا پر’’ وقف ‘‘کو شخص قانونی تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے وقف میں آنے والی ہر قسم کی رقوم تکافل کمپنی کی نہیں بلکہ وقف فنڈ کی ملکیت میں چلی جاتی ہیں کہنے کو تویہ ایک جملہ ہے لیکن حقیقت میں اس فن کے ماہرین جانتے ہیں کہ اس ایک جملے کے فرق نے تکافل اور انشورنس میں کیسے زمین آسمان کا فرق ڈال دیاہے۔ اس ’’وقف‘‘ کے تصور نے نہ صرف یہ کہ <strong>انشورنس</strong> میں پائے جانے والے سود، قمار اور غرر کوتکافل میں ختم کر دیا بلکہ پروٹیکشن فنڈ کی مد میں جو کئی کئی ملینز اور بلینز کی بچت انشورنس کمپنیوں کو ہوتی ہے تکافل کمپنی اس سے محروم رہ جاتی ہے ۔ اس رقم سے فنڈ کے ممبران حسب شرائط فائدہ اٹھاتے ہیں چوں کہ اسلامی نقطہ نظر سے وقف اللہ کے سوا کسی کی ملکیت میں نہیں ہو سکتا اسی وجہ سے تکافل کمپنی کے پورٹ فولیوں میں وقف فنڈ میں موجود رقم شامل نہیں کی جاسکتی۔ وقف کی ان ہی خصوصیات کی بناء پر پاکستان کے علماء کرام نے انشورنس کے متبادل نظام کے لیے ’’تبرع‘‘ کے بجائے ’’ وقف‘‘ کا انتخاب کیا کیوں کہ وقف میں تبرع کی بنسبت وسعتیںFlexibilities زیادہ ہیں۔<br />
تکافل سسٹم میں وقف فنڈ کے ذرائع آمدن اور اخراجات حسب ذیل ہوتے ہیں۔<br />
وقف فنڈ کے ذرائع آمدن<br />
(۱)۔۔۔ شرکاء تکافل سے وصول شدہ زر تعاون<br />
(۲)۔۔۔ ری تکافل آپریٹر سے حاصل شدہ کلیمز<br />
(۳)۔۔۔ وقف فنڈ کی سرمایہ کاری سے حاصل شدہ نفع<br />
(۴)۔۔۔ <strong>وقف فنڈ</strong> کو دیا جانے والا کوئی بھی عطیہ<br />
(۵)۔۔۔فنڈ کے خسارے کی صورت میں حاصل کرد ہ قرض حسنہ<br />
وقف فنڈ کے اخراجات<br />
(۱)۔۔۔ شرکاء تکافل کے کلیمز کی ادائیگی<br />
(۲)۔۔۔ ری تکافل کے اخراجات<br />
(۳)۔۔۔تکافل آپریٹر کی فیس<br />
(۴)۔۔۔ فنڈ کی سرمایہ کاری کے نتیجہ میں تکافل آپریٹر کا نفع میں حصہ<br />
(۵)۔۔۔قرض حسنہ کی واپسی<br />
(۶)۔۔۔ عطیات و خیرات کی مد میں ادا کی گئی رقم<br />
(۷) <strong>سر پلس</strong> کا وہ جصہ جو ممبرز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔<br />
ہمارا آج کا موضوع وقف فنڈ کے اخراجات میں شامل ساتواں پوائنٹ ہے۔یعنی سر پلس Surplusکا وہ حصہ جو ممبر زمیں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔سرپلس کو آسان الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ہر مالی سال کے ختم ہونے پر وقف فنڈ سے کلیمز اور دیگر جملہ اخراجات کی ادائیگیاں کرنے کے بعد دیکھا جاتا ہے کہ ان تمام ادائیگیوں کے بعد فنڈ میں کچھ رقم بچی ہے یا نہیں اگرتو اخراجات کے بعد رقم بچی ہے تو اس بچت کوSurplusکہا جاتا ہے۔اور اگر رقم نہیں بچی تو اس کوDeficitکہا جاتا ہے۔گویا سر پلس وقف فنڈ کی سالانہ بچت کا نام ہے۔چوں کہ وقف فنڈ شخص معنوی ہونے کی حیثیت سے اس میں آنے والی رقم کا خود مالک ہوتاہے کمپنی یا ممبران تکافل اس رقم کے مالک نہیں ہو تے البتہ کمپنی کو فنڈ کے نگران اور متولی ہونے کے حیثیت سے اس سرپلس میں شریعہ بورڈ کی نگرانی میں چند ایک مخصوص اختیارات حاصل ہوتے ہیں جیسا کہ کمپنی<br />
(۱) ۔۔۔کسی ناگہانی حادثے کے لئے کچھ رقم رکھ دے۔<br />
(۲)۔۔۔ کچھ رقم خیرات کر دے۔<br />
(۳)۔۔۔کچھ رقم اگر چاہے تو مستقبل کی ضروریات کے لیے واپس فنڈ میں جمع کرا دے<br />
(۴)۔۔۔کچھ رقم ممبرز میں تقسیم کر دے<br />
ہر سال کے اختتام پر سر پلس کا اعلان اصل میں وقف پول کی گروتھ کو ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔اگر ہر سال اعلان کردہ سر پلس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وقف فنڈ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے ۔ (مفتی شمشاد احمد  تکافل کنسلٹنٹ)</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%d8%b3%d8%b1%d9%be%d9%84%d9%8a%d8%b3-%d8%aa%d9%83%d8%a7%d9%81%d9%84-%d9%83%d8%a7-%d8%a7%d9%8a%d9%83-%d8%a7%d9%85%d8%aa%d9%8a%d8%a7%d8%b2%d9%8a-%d9%88%d8%b5%d9%81/">سرپليس تكافل كا ايك امتيازي وصف</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>https://almostaqeem.com/%d8%b3%d8%b1%d9%be%d9%84%d9%8a%d8%b3-%d8%aa%d9%83%d8%a7%d9%81%d9%84-%d9%83%d8%a7-%d8%a7%d9%8a%d9%83-%d8%a7%d9%85%d8%aa%d9%8a%d8%a7%d8%b2%d9%8a-%d9%88%d8%b5%d9%81/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>What is Musharakah?</title>
		<link>https://almostaqeem.com/what-is-musharakah/</link>
		<comments>https://almostaqeem.com/what-is-musharakah/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 27 Apr 2015 06:58:36 +0000</pubDate>
		<dc:creator><![CDATA[Muhammad Aamir]]></dc:creator>
				<category><![CDATA[Blog]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://almostaqeem.com/?p=4081</guid>
		<description><![CDATA[<p>Mushrakah or shirkah is the form of partnership where two or more individuals or companies combine their capital to do business by sharing profit/loss. There are two basic types of Musharakah. Contractual Partnership (شرکۃ العقد) Non Contractual Partnership  (شرکۃ الملک) Contractual Partnership: This kind of partnership may be considered as a proper partnership because two [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/what-is-musharakah/">What is Musharakah?</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p>Mushrakah or shirkah is the form of partnership where two or more individuals or companies combine their capital to do business by sharing profit/loss. There are two basic types of Musharakah.</p>
<ol>
<li>Contractual Partnership (شرکۃ العقد)</li>
<li>Non Contractual Partnership  (شرکۃ الملک)</li>
</ol>
<p><strong>Contractual Partnership:</strong></p>
<p>This kind of partnership may be considered as a proper partnership because two or more individuals or companies enter into a contractual agreement by joint investment and sharing profit and loss. The agreement may be written or oral but written agreement is better due to the verses of surah baqarah.</p>
<p><strong>Non Contractual Partnership:</strong></p>
<p>This is a co ownership and comes into existence by joint ownership of two or more individuals or companies without having a formal partnership oral or written. For example, inherited or gifted asset to such individuals or companies.</p>
<p><strong>Islamic Rules of Contractual Partnership</strong></p>
<p>We will discuss Islamic rules/laws of contractual partnership because this type of partnership is being used by the business community.</p>
<p><strong>Management</strong></p>
<p>Every partner has a right to participate actively in the affairs of musharakah if he wishes.</p>
<p>Every partner is an agent for the other, as all the partners benefit from the musharakah business.</p>
<p>Every partner enjoys equal rights in all respects in the absence of any condition to the contrary.</p>
<p><strong>Distribution of Profit:</strong></p>
<p>The bases for entitlement to the profits of a musharakah are capital, active participation in the musharakah business and responsibility. Profits are to be distributed among the partners in business on the basis of proportions settled by them in advance. The share of every party in profit must be determined as a proportion or percentage. No fixed amount can be settled for any party. The sleeping partner cannot determine profit ratio more than his investment ratio.</p>
<p><strong>Liability of Loss:</strong></p>
<p>The loss shall be borne by the partners according to their capitals. In all forms of musharakah (i.e.limited companies, co-operative societies and partnership) the loss is borne on the basis of capital invested.</p>
<p><strong>Withdrawal of Members</strong></p>
<p>Any member of partnership can withdraw his investment from the business after giving a specific notice period to manage the investment of others. This partnership can be ended by the death of any partner and the heirs will have the right to continue it or to stop it. In a partnership business a partner can be permitted to withdraw and receive his capital back after fulfilling his liabilities as a partner according to terms and conditions settled between the partners. A partner can sell his proportion to others and can exit from the partnership.</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/what-is-musharakah/">What is Musharakah?</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>https://almostaqeem.com/what-is-musharakah/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>تکافل میں شریعہ بورڈ کی ضرورت اور اس کا دائرہ کار</title>
		<link>https://almostaqeem.com/takaful/</link>
		<comments>https://almostaqeem.com/takaful/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 22 Apr 2015 17:43:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator><![CDATA[Muhammad Aamir]]></dc:creator>
				<category><![CDATA[Blog]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://almostaqeem.com/?p=4069</guid>
		<description><![CDATA[<p>انشورنس کے بجائے تکافل کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو سننے والے کے ذہن میں یہ بنیادی سوال ابھرکر آتا ہے کہ آخر انشورنس اور تکافل میں بنیادی فرق کیا ہے ؟ اس سوال کا سیدھا اور یک لفظی جواب یہ ہے کہ دونوں میں بنیادی فرق حلال وحرام کا ہے۔ ورنہ نظری [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/takaful/">تکافل میں شریعہ بورڈ کی ضرورت اور اس کا دائرہ کار</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">انشورنس کے بجائے تکافل کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو سننے والے کے ذہن میں یہ بنیادی سوال ابھرکر آتا ہے کہ آخر انشورنس اور تکافل میں بنیادی فرق کیا ہے ؟</p>
<p style="text-align: right;">اس سوال کا سیدھا اور یک لفظی جواب یہ ہے کہ دونوں میں بنیادی فرق حلال وحرام کا ہے۔ ورنہ نظری اعتبار سے دیکھا جائے تو تکافل اور انشورنس کمپنیاں معاشرے کے افراد کو بچت، سرمایہ کاری اور معاشی تحفظ جیسی ضروریات کو پورا کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔اور یہ امور بذات خود منع یا حرام نہیں ہیں شرعی اور قانونی اعتبار سے ان اقدامات کا جائزہ لیا جائے توان میں کسی قسم کی شرعی یا قانونی قباحت اس وقت تک نہیں پائی جاتی جب تک کہ کوئی خلاف شرع یا خلاف قانون کام نہ کیا جائے لیکن عملی اعتبار سے دونوں کے طریقہ کار ، اہداف اور مقاصد کا فرق ہی ان میں حد فاصل کھینچ دیتا ہے۔اسلامی سکالر اور علماء نے انشورنس کو نا جائز اس لیے قرار نہیں دیا کہ وہ اپنی ذات میں کوئی خراب چیز ہے بلکہ اس سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انشورنس میں کلائنٹ اور کمپنی کے درمیان عقد معاوضہ (Commutative Contract) ہونے کی وجہ سے پیسوں کے اس لین دین میں سود،قمار اورغرر جیسے شرعی ممنوعات پائے جاتے ہیں ۔ ورنہ اپنی ذات میں انشورنس معاشرے کے افراد کو بچت، سرمایہ کاری اور معاشی تحفظ فراہم کرنے کا ایک نظام ہے جس میں سود ، قمار اور غرر جیسے خارجی عوارض کے پائے جانے کی وجہ سے خرابی پیدا ہو گئی ہے اوریہ بات ہر مسلمان جانتا ہے کہ سود، قمار اور غرر ایسے ذرائع آمدن ہیں جن کے بارے میں شریعت اسلامیہ کا دو ٹوک فیصلہ یہی ہے کہ ان سے حاصل شدہ آمدنی کسی صورت جائز نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے انشورنس کے ناجائز ہونے کے لیے ان تینوں خرابیوں کابیک وقت پایاجانا لازمی نہیں ہے بلکہ ان میں سے کسی ایک کا پایا جانا بھی انشورنس کے عدم جواز کے لیے کافی ہے۔چونکہ وطن عزیز میں بیک وقت بچت، سرمایہ کاری اور معاشی تحفظ فراہم کرنے والا ایسا کوئی ادارہ موجود نہیں تھا جو ان شرعی خامیوں سے پاک ہو اس لیے علماء اور اسلامی سکالرز کی طرف سے عموما انشورنس کے ذریعہ مذکورہ فوائد حاصل کرنے کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی جاتی رہی ہے۔اس لیے شدت سے ضرورت اس بات کی تھی کہ ملک میں ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو عوام الناس کو مذکورہ فوائد اسلامی تعلیمات کے عین مطابق فراہم کریں ۔دنیا بھر میں تبدیل ہوتے حالات اور احوال نے جہاں انشورنس کی ضرورت اور افادیت کو پہلے سے کہیں گنا بڑھا دیا وہاں اسلامی نقطہ نظر سے اس کے جائز اور حلال متبادل کی حاجت اور طلب میں بھی پہلے سے زیادہ اضافہ کر دیا ۔مغربی ملکوں کے بر خلاف مسلم ممالک خصوصا پاکستان کی آبادی کی ایک بڑی اکثریت انشورنس سے دور صرف اسی لیے ہے کہ وہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنے دینی معتقدات کی رو سے جائز و حلال نہیں سمجھتی معاملہ کی اس نزاکت کا ادراک حکومت کو مختلف سرویز ،مشاہدات اور انشورنس کمپنیوں کے تجربات سے ایک عرصے سے تھا دوسری طرف اکابر علماء کرام اور سکالرز بھی اس معاملہ کی حساسیت سے غافل نہ تھے چنانچہ انھوں نے بچت ، سرمایہ کاری اور معاشی تحفظ جیسی سہولت فراہم کرنے کے لیے تکافل کا ایسا نظام وضع کر کے پیش کیا جس میں سود، قمار اور غرر جیسی غیر اسلامی چیزیں نہیں پائی جاتی ہیں۔ درحقیقت تکافل انشورنس جیسے ایک اہم اجتماعی مسئلہ کا جائز یا مباح متبادل حل ہے جس کی برسوں سے اشدضرورت تھی۔انشورنس کے جائز و حلال متبادل نظام کو عملا چلانے کے لیے دو بنیادی مسئلے طے کرنا نہایت ضروری تھے ایک یہ کہ ایسا کون سا ماڈل اختیار کیا جا سکتا ہے جس میں انشورنس میں پائی جانے والی مذکورہ شرعی خرابیاں نہ پائی جائیں اور دوسر ا مسئلہ یہ کہ وہ کون سی اتھارٹی ہو گی جو اس بات کو یقینی بنانے کی قانونا اور شرعا ذمہ دار ہو کہ تکافل میں ہونے والے تمام معاملات شریعت کے مطابق اور سود، جو اور غرریا ان کے علاوہ دیگر کسی نا جائز امر سے خالی ہیں۔70کی دہائی میں مشرق وسطی، مڈل ایسٹ وغیرہ میں مختلف تکافل ماڈل قائم ہو چکے تھے ان کی روشنی میں جاری برسوں کی تحقیق اور غور و خوض کے بعد 2002میں پاکستان کے معروف دینی ادارے دار العلوم کراچی میں مرکز الاقتصاد الاسلامی کی دعوت پر پاکستان، بنگلہ دیش اور شام کے اہل علم اور سکالر کا اجتماع ہوا جس میں علماء کرام نے وقف کی بنیاد پر تکافل نظام کو مروجہ انشورنس کے جائز و حلال متبادل قرار دے کر پہلے مسئلہ کو بحسن و خوبی حل کر لیا۔اس کی روشنی میں سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے 2005  میں تکافل رولز جاری کیے جن کو تکافل رولز 2005 کا نام دیا گیا ہے ۔ ان تکافل رولز2005 کے رول نمبر34کے مطابق ہر تکافل کمپنی کے لیے لازم قرار دیا گیا کہ وہ کم از کم تین ایسے ماہرین پر مشتمل ایک شریعہ بورڈ تشکیل دے جو اسلامی فقہ، معاملات اور جدید معاشیات میں نمایاں مقام و تجربہ رکھتے ہوں کمپنی کی طرف سے قائم کردہ اس شریعہ بورڈ کے فرائض منصبی میں یہ شامل کیا گیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تکافل کمپنی کی پراڈکٹ، اس کے طریقہ کار، اور فنڈز کی سرمایہ کاری شریعت اسلامیہ کے مطابق ہو نیز اس کے ساتھ ہی رول نمبر33 کے مطابق سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کمیشن پر لازم کیا کہ وہ ایک سنٹرل شریعہ بورڈ تشکیل دے جس کا مقصد تکافل کمپنی کے تکافل آپریشن کے کسی بھی پہلوپر مشاورت اور رہنمائی فراہم کرنا ہو گا۔2012 میں سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے تکافل رولز2012متعارف کرائے جن کے مطابق ہر تکافل کمپنی کے لیے کم از کم ایک شریعہ ایڈوائز کا تقرر لازم قرار دیا گیا ہے جس کے فرائض منصبی میں اس بات کو یقینی بنانا ٹھہرایا گیاکہ تکافل کمپنی کی پراڈکٹ اس کے متعلقہ ڈاکومنٹس مختلف فنڈز کی سرمایہ کاری اور ری تکافل اریجمنٹ وغیرہ کے معاملات شریعت اسلامی کے مطابق ہوں اس کے علاوہ شریعہ ایڈوائزر کو سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے قائم کردہ سنٹرل شریعہ بورڈ کی ہدایات اور مشاورت کا پابند قرار دیا ہے۔یہ سنٹرل شریعہ بورڈ تکافل رولز2012کے مطابق سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان تشکیل دے گا جس کے ممبران کی کم از کم تعداد تین ہو گی یہ سنٹرل شریعہ بورڈ اسلامی فنانشل اداروں کی ضروریات اور لین دین سے متعلقہ شرعی اصولوں کی تشریح اور رہنمائی کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایسے تمام فنانشل ادارے جو کہ فنانشل سروس اسلامی تعلیمات کے مطابق دینے کے مدعی ہیں وہ واقعی اسلام کے شرعی اصولوں پر کاربند ہوں یہ فنانشل ادارے مختلف امور پر شریعہ بورڈ کی رائے حاصل کرنے کے بھی پابند ہوں گے مئی2013 میں سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ایک پریس ریلز میں بتایا کہ کمیشن نے شریعہ ایڈوائزری بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی ہے پریس ریلز کے مطابق شریعہ ایڈوائزری بورڈ9 ممبران پر مشتمل ہو گا جن میں نمایاں علماء دین، جج صاحبان، مالی امور کے ماہرین اور سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے نامزد حکام شامل ہوں گے کمیشن نے شریعہ بورڈ کے ممبران کے لیے اہلیت بھی مقرر کی ہے جس کے مطابق ارکان کے لئے معاشیات، فنانس، اسلامک اکاؤنٹنگ اور شریعہ قوانین کی تعلیم اور تجربہ لازم قرار دیا ہے۔ شریعہ ایڈوائزری بورڈ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے لیے بطور مشیر اور ریفرنس باڈی کام کرنے کے علاوہ اسلامی فنانشل مارکیٹ جیسے کہ اسلامک میوچل فنڈز، اسلامک پنشن فنڈز، تکافل آپریٹرز، مضاربہ کمپنیوں اور دیگر اسلامی لین دین کرنے والے اداروں سے متعلق شریعہ کے اصولوں کے مطابق قوانین کی تشریح بھی کرے گامزید ازاں شریعہ ایڈوائزری بورڈ کی سب سے اہم ذمہ داری مختلف کمپنیوں کی جانب سے متعارف کرائے جانے والی اسلامی خدمات اور پراڈکٹ کی توثیق کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ کمپنیوں کی تمام اسلامی پراڈکٹ اور خدمات شریعہ کے اصولوں کے عین مطابق ہوں۔شریعہ ایڈوائزری بورڈ کیپیٹل مارکیٹ کے لئے ریگولیشن ، اکاؤنٹنگ اور آڈٹ کے قوائد وضع کرنے کے ساتھ سرمایہ کاروں میں آگاہی پیدا کرنے جیسے اقدامات بھی کرے گا۔ حکومت کے ان اقدامات نے نہ صرف تکافل انڈسٹری میں معاملات کے شریعت اسلامیہ کے مطابق ہونے کو یقینی بنانے والی ذمہ دار اتھارٹی کے تعین کا دوسرا مسئلہ بھی حل کر دیا۔ بلکہ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی زیر انگرانی قائم ہونے والا بورڈ تکافل کے علاوہ دیگر اداروں کو بھی شریعہ رہنمائی فراہم کرنے کا پابند ہو گا ۔ان دو بنیادی مسائل کے بحسن و خوبی حل ہونے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ تکافل انڈسٹری مروجہ انشورنس کا بہترین جائز و حلال متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے جس کی ترقی اور کامیابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مروجہ انشورنس کمپنیوں نے بھی طویل قانونی جہدوجہد کے بعد بالآخر ونڈو تکافل آپریشن شروع کر دیے ہیں اس طرح یہ امکان بھی پیدا ہو چلا ہے کہ آنے والے برسوں میں مروجہ انشورنس کمپنیاں بھی تکافل میں تبدیل ہو جائیں گی یا ان کا کردار رسمی سا رہ جائے گا۔ اس منزل کے حصول کے لیے بہر حال طویل اور صبر آزما محنت اور اخلاص کی ضرورت ہے اس کے لیے انشورنس سے وابستہ حضرات خصوصا کمپنیوں کے مالکان اور شیئر ہولڈرز کوکلیدیکردار ادا کرنا پڑے گا۔</p>
<p style="text-align: right;">بشکریہ مفتی شمشاد احمد پاک قطر تکافل</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/takaful/">تکافل میں شریعہ بورڈ کی ضرورت اور اس کا دائرہ کار</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>https://almostaqeem.com/takaful/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اداروں میں خوشگوار ماحول</title>
		<link>https://almostaqeem.com/%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d9%88%d8%b4%da%af%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%ad%d9%88%d9%84/</link>
		<comments>https://almostaqeem.com/%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d9%88%d8%b4%da%af%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%ad%d9%88%d9%84/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 31 Jan 2015 14:01:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
				<category><![CDATA[Blog]]></category>
		<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://almostaqeem.com/?p=3553</guid>
		<description><![CDATA[<p>&#160; اللہ تعالی نے ہر انسان کو مختلف کاموں کے لئے پیدا کیا ہے ۔ ان کے مختلف درجات بنائے ہیں ۔ ان کی تخلیق کے اعتبار سے ان کو صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں۔ ہر انسان ہر کام نہیں کرسکتا۔ ہر انسان کاروبار نہیں کرسکتا۔ بعض کے پاس پیسہ نہیں ہوتا ، بعض کے پاس [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d9%88%d8%b4%da%af%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%ad%d9%88%d9%84/">اداروں میں خوشگوار ماحول</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p>اللہ تعالی نے ہر انسان کو مختلف کاموں کے لئے پیدا کیا ہے ۔ ان کے مختلف درجات بنائے ہیں ۔ ان کی تخلیق کے اعتبار سے ان کو صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں۔ ہر انسان ہر کام نہیں کرسکتا۔ ہر انسان کاروبار نہیں کرسکتا۔ بعض کے پاس پیسہ نہیں ہوتا ، بعض کے پاس کاروبار کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اللہ تعاالی نے اس دنیا کے نظام کو چلانے کے لئے ہر انسان کو دوسرے انسان کا محتاج بنا دیا تاکہ کوئی انسان کسی دوسرے پر ظلم نہ کرے اور ایک دوسرے کی ضروریات بھی پوری کرتے رہیں۔ چنانچہ کسی انسان کو غریب بنا دیا اور کسی کو صاحبِ ثروت ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :</p>
<p>ورفعنا بعضھم فوق بعض درجت لیتخذ بعضھم بعضا سخریا (الایۃ)</p>
<p>اور ہم نے انہی میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دی ، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں</p>
<p>لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے تمام انسانوں کے حقوق و فرائض کو بھی متعین کردیا تاکہ اس کائنات کا نظام عدل و انصاف پر مبنی رہے ۔ موجودہ اشتراکی اور جاگیردانہ نظام میں جہاں بہت سے لوگ ترقی کر رہے ہیں ، وہیں بہت سے لوگ اپنے اوپر ہونے والے ظلم و زیادتی کی وجہ سے ناکامی کا منہ بھی دیکھ رہے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم لوگ اللہ تعالی کے بتائے ہوئے حقوق و فرائض کو بخوبی ادا کریں اور دنیا و آخرت کی کامیابی کو حاصل کریں۔ اس دنیا کا دستور ہے کہ بعض لوگ کسی کاروبار کے مالک ہوتے ہیں اور بعض لوگ وہاں ملازم ہوتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے آج سے چودہ صدیاں قبل ہی اس رشتے کے حقوق و فرائض واضح فرما دیا تھا ۔ آپ علیہ السلام کی بے مثال ہدایات پر عمل کرکے اداروں میں خوشگوار ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے ۔</p>
<p>اللہ تعالی اس بات کو پسند کرتا ہےکہ جب تم میں سے کوئی کام کرے تو اُس کی مضبوطی اور اچھائی کا خیال رکھے۔(مجمع الزوائد)</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>مزدور کو مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل ہی ادا کر دیا کرو۔ (ابن ماجہ)</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d9%88%d8%b4%da%af%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%ad%d9%88%d9%84/">اداروں میں خوشگوار ماحول</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>https://almostaqeem.com/%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d9%88%d8%b4%da%af%d9%88%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%ad%d9%88%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مارکیٹنگ اسلام کی نظر میں</title>
		<link>https://almostaqeem.com/%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%db%8c%d9%b9%d9%86%da%af-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
		<comments>https://almostaqeem.com/%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%db%8c%d9%b9%d9%86%da%af-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 31 Jan 2015 14:01:22 +0000</pubDate>
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
				<category><![CDATA[Blog]]></category>
		<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://almostaqeem.com/?p=3551</guid>
		<description><![CDATA[<p>&#160; دنیا میں جتنے لوگ کاروبار کر رہے ہیں ، وہ سب اپنے کاروبار کی تشہیر یا مارکیٹنگ ضرور کرتے ہیں تاکہ کاروبار کے لئے خریدار حاصل ہوں جبکہ اسلام کے احکامات کے مطابق مارکیٹنگ کا مقصد خریداروں کو اپنے کاروبار سے متعلق مفید معلومات فراہم کرنا ۔ چنانچہ موجودہ مارکیٹنگ میں ہر آدمی اپنے [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%db%8c%d9%b9%d9%86%da%af-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba/">مارکیٹنگ اسلام کی نظر میں</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p>دنیا میں جتنے لوگ کاروبار کر رہے ہیں ، وہ سب اپنے کاروبار کی تشہیر یا مارکیٹنگ ضرور کرتے ہیں تاکہ کاروبار کے لئے خریدار حاصل ہوں جبکہ اسلام کے احکامات کے مطابق مارکیٹنگ کا مقصد خریداروں کو اپنے کاروبار سے متعلق مفید معلومات فراہم کرنا ۔ چنانچہ موجودہ مارکیٹنگ میں ہر آدمی اپنے کاروبار کے لئے تشہیر کے مختلف طریقے سوچتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اُس کی تشہیر میں ایسے طریقے استعمال ہوں کہ جو اِس سے پہلےکوئی اور نہ کرسکا ہو۔ کبھی اپنے کاروبار کی تشہیر اخبارات میں اشتہارات وغیرہ سے کی جاتی ہے، کبھی مختلف تجارتی نمائشوں میں جگہ حاصل کرکے اپنے کاروبار کی تشہیر کی جاتی ہے ۔ کبھی کوئی سکیم لائی جاتی ہے تاکہ خریدارمتوجہ ہوں۔ اگر یہ سار ے اعمال اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں ہوں تو ٹھیک ہیں</p>
<p>کاروبار کی مارکیٹنگ کرنا شروع زمانے سے ہی چلا آرہا ہے ۔ البتہ اُس کی صورتیں مختلف ہوا کرتی تھیں۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ جب اپنا سامانِ تجارت دوسرے ممالک سے لایا کرتے تھے تو وہ دف بجاکر لوگوں کو متوجہ کیا کرتے تھےاور اپنی آمد کی اطلاع کیا کرتے تھے تاکہ لوگ آ کر اپنا مطلوبہ سامان خرید لیں ۔ اِسی طرح بعض دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے غلاموں کے ذریعہ اپنی آمد کے اونچے اونچے اعلانات کروایا کرتے تھےاور لوگ سمجھ جایا کرتے تھے کہ کون سامان لے کر آیا ہے ۔ پھر بتدریج وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اِس سلسلے میں ترقی آتی گئی اور نت نئے طریقے ایجاد ہونے لگے۔ آج کل کے دور میں مارکیٹنگ میں مزید نکھار آگیا ہے اور اِس کے لئے مختلف اور جدید ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں ۔ نیز موجودہ دور میں میڈیا کی ترقی کے باعث مصنوعات کی مارکیٹنگ ایک انتہائی منافع بخش کاروباربھی بن گیا ہے ۔ ہر بڑی کمپنی اِس مد میں ایک بہت بڑی رقم خرچ کرتی ہے اور اِس کے ذریعے اپنی سیل بڑھاتے ہیں۔</p>
<p>مارکیٹنگ بذاتِ خود اسلام میں ممنوع نہیں ہے لیکن جب اِس میں غیر اسلامی افعال شامل ہوجائیں تو پھر وہ غیر اسلامی افعال ممنوع ہوجائیں گے۔ مثلا کسی بھی چیز کی مارکیٹنگ کے لئے ضروری ہے کہ وہ متعلقہ چیز حلال ہو ۔ گر وہ حرام ہوگی تو اُس کی مارکیٹنگ جائز نہیں ہوگی اور نہ ہی اُس کی آمدنی جائز ہوگی ۔رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس چیز کا کھانا اور پینا حلال نہیں ، اُس کی قیمت بھی حلال نہیں ہوتی۔ اِسی طرح اگر کسی چیز کی تشہیر کی جارہی ہو لیکن اُس چیز کی قیمت یا کوئی خصوصیت صحیح واضح طور پر نہ بتائی جارہی ہو تو یہ فعل درست نہیں ہوگا۔ اسلام میں دھوکہ اور فراڈ کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں ہے ، یہاں تک کہ میدان ِ جنگ میں بھی دھوکہ دینا جائز نہیں ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن وہ ہے کہ جس سے لوگوں کے اموال اور اُن کی جانیں محفوظ ہوں۔</p>
<p>بسا اوقات اپنے کاروبار کی مارکیٹنگ کرتے ہوئے ایسے دعوے کیے جاتے ہیں کہ جو یا تو ممکن ہی نہیں ہوتے یا پھر وہ وقوع پذیر نہیں ہوتے ۔ مثلا کسی لیکویڈ وِم کے متعلق یہ دعوی کرنا کہ اِس کا ایک قطرہ ہی پورے برتن کی صفائی کے لئے کافی ہے یا پھر کسی شیمپو کے بارے میں یہ دعوی کرنا کہ یہ بالوں میں سے خشکی کو بالکل ختم کردیتا ہے جبکہ شیمپو کے استعمال سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا ۔ اِس طرح کے دعوے مارکیٹنگ میں کرنا بالکل جائز نہیں ہیں بلکہ یہ جھوٹ اور دھوکہ میں آتے ہیں ۔ تجارتی کمپنیز کی کوشش ہوتی ہے کہ ہماری مارکیٹنگ میں ایسی باتیں پائی جائیں تا کہ گاہک خود چل کر آجائے اور اِس کے لئے اخلاقیات، سچ اور دیانت داری کی بالکل فکر نہیں کی جاتی جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لا ضرر و لاضرار (کاروبار میں نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ) ۔</p>
<p>مارکیٹنگ میں خواتین کو نامناسب انداز و اطوار اور لباس اختیار کرنے پر مجبور کرنا بھی ایک جدید طریقہ بن گیا ہے ، جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ خواتین کو ویسے ہی پردے میں رہنے اور رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ مارکیٹنگ میں خواتین جتنی عیاں ہوں گی اُتنا ہی اُنہیں قبول کیا جائے گا ۔ پھر اِن کی تصاویر بھی ایسے انداز اور طریقے سے کھینچی جاتی ہے کہ جسے دیکھ کر ایک شریف انسان بھی شرما جائے ۔ تصویر سازی بذاتِ خود اسلا م میں ایک ممنوع عمل ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص تصویریں بناتا ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالی اُس سے فرمائیں گے کہ اب اِس میں جان بھی ڈال اور یہ کام وہ کبھی نہ کرسکے گا ۔ اسی طرح سیلز گرل کو مردوں کی نسبت زیادہ ترجیح دی جاتی ہے تاکہ اُن کو دیکھ کر زیادہ سے زیاد ہ خریدار اُن کی دکان یا سٹور پر آئیں ۔</p>
<p>موجودہ دور میں مارکیٹنگ کا سب سے جدید انداز برانڈنگ کا ہے کہ جس میں تجارتی ادارے اپنے صارفین کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور انہی جذبات کو سامنے رکھ</p>
<p>کر برانڈنگ کی جاتی ہےتاکہ لوگ جذبات سے متاثر ہو کر وہ مصنوعات خرید لیں۔ یہ طریقہ کار بھی درست نہیں ہے، اگر کسی کو جذبات میں بالکل مغلوب کر دیا جائےاور اُس سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی جائےاور وہ اپنی عقل سے فیصلہ نہ کر سکے۔      اسی طرح اپنی مارکیٹنگ مہم میں اتنا روپیہ پیسہ نہیں لگانا چاہیے کہ اس کا بوجھ خریدار پر پڑے او صارف کو اِس کی قیمت چکانی پڑے ۔اس کے علاوہ اپنی مارکیٹنگ مہم میں بھی ایسی کوئی ترغیب نہیں چلانی چاہیے کہ خریدار کے ماہانہ اخراجات کا   بجٹ متاثر ہو۔ ایک حدیث کے مطابق جب انسان اپنے کسی مسلمان بھائی کی بھلائی کی فکر کرتا ہے تو اللہ تعالی اُس کی مدد و نصرت فرماتا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%db%8c%d9%b9%d9%86%da%af-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba/">مارکیٹنگ اسلام کی نظر میں</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>https://almostaqeem.com/%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%db%8c%d9%b9%d9%86%da%af-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیا قربانی ضروری ہے یا غریبوں کی مدد؟</title>
		<link>https://almostaqeem.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d9%82%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92-%db%8c%d8%a7-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af%d8%9f/</link>
		<comments>https://almostaqeem.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d9%82%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92-%db%8c%d8%a7-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af%d8%9f/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 31 Jan 2015 14:00:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
				<category><![CDATA[Blog]]></category>
		<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://almostaqeem.com/?p=3549</guid>
		<description><![CDATA[<p>&#160; آج پاکستان میں غربت کی شرح انتہائی زیادہ ہے۔ امیر کی امارت اور غریب کی غربت کی رفتار انتہائی تیز ہے۔ پاکستان میں بسنے والا ہر آدمی خواہ امیر ہو یا غریب، سبھی پریشان ہیں۔ امیر اپنی دولت بڑھانے کے لئے اور غریب اپنے بھوکے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے۔ امیر کو اپنی [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d9%82%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92-%db%8c%d8%a7-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af%d8%9f/">کیا قربانی ضروری ہے یا غریبوں کی مدد؟</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p>آج پاکستان میں غربت کی شرح انتہائی زیادہ ہے۔ امیر کی امارت اور غریب کی غربت کی رفتار انتہائی تیز ہے۔ پاکستان میں بسنے والا ہر آدمی خواہ امیر ہو یا غریب، سبھی پریشان ہیں۔ امیر اپنی دولت بڑھانے کے لئے اور غریب اپنے بھوکے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے۔ امیر کو اپنی دولت کی خود نمائی کا کوئی موقع مل جائے تو وہ اُسے ضائع نہیں کرتا خواہ اُس موقع کو حاصل کرنے کے لئے کتنی دولت ضائع ہوجائے۔ پرواہ نہیں !!!</p>
<p>غریب مرتا ہے تو مرے۔ اُس کی جان سے ۔۔۔۔۔۔۔اُسے کیا پرواہ؟؟؟</p>
<p>اب عید کا موقع آرہا ہے غریبوں کے پاس کھانے اور گھر کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے وسائل نہیں اور امیر پریشان ہے کہ وہ اچھے سے اچھا جانور خریدے اور اپنی سوسائٹی میں مہنگا جانور خریدنے کا اعزاز حاصل کرے۔ ہر سال لوگ لاکھوں جانور کا خون اپنے شوق کی تکمیل کے لئے یونہی بہا دیتے ہیں جس کا کوئی مقصد اور فائدہ نہیں ۔ جانور الگ سے ضائع ہوتے ہیں ، آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے، گندگی میں زیادتی ہوتی ہے۔ مولوی اپنے مدرسے پالنے کے لئے لوگوںکو جانور قربان کروانے کے لئے ترغیب دے رہے ہیں ۔پھر یہی مدرسے معصوم بچوں کی ذہن سازی کرکے ملک کے حالات خراب کرنے میں حصہ ڈالتے ہیں ۔ اللہ ہی ان مولویوں سے ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے۔ ان مولویوں نے ہمارے ملک کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے۔</p>
<p>کیا اُن معصوم جانوروں کا کوئی حق نہیں کہ جنہیں ہم ہر سال یونہی اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھاتے رہتے ہیں۔قربانی فرض تو نہیں ہے ، بس ایک سنت ہے جو اَب ایک رسم ِ خود نمائی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ بہت سے صحابہ کرام نے قربانی سنت ہونے کی وجہ سے نہیں کی ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو سنت کہا ہے۔</p>
<p>بحیثیت مومن اور مسلمان ہر بے مقصد عمل سے بچنا اور اپنی اولاد کی تربیت عین اللہ کی منشا کے مطابق کرنا ہی تو اتباع دین ہے، آج آپ اپنے بچوں کی ضد یا خواہش کو بڑے خوبصورت انداز میں تبدیل کر سکتے ہیں، اپنے بچوں کو اپنے کسی قریبی غریب ترین گھر میں لے جائیں، اور انکو اس گھر والوں کی ضروریات اور رہن سہن دکھائیں ، واپس آ کر اپنے بچوں کو اپنے گھر اور رہن سہن کا مشاہدہ کروائیں، اور پھر اپنے بچوں کو اس بات پر قائل کریں کہ یہ 20000 یا 40000 ہزار کا بکرا ہم ایک دن میں پکا کر کھا جائیں گے، اور اگر یہی بیس تیس ہزار اگر ہم ان غریبوں کو دے دیں جس سے وہ اپنی مہینے بھر کی تمام خواھشات پوری کر سکیں گے ، تو الله کس بات پر زیادہ خوش ہوگا ؟؟؟ بچوں کے جواب پر جو یقیناً اس غریب گھرانے کے حق میں ہوگا۔</p>
<p>عید سے ایک دن پہلے 3 یا چار یا پانچ کلو گوشت اپنے گھر میں پکانے کے لیے لا کر رکھیں، اور باقی پیسے اپنے بچوں کے ساتھہ اس غریب گھرانے کو دے آئیں، انکے چہروں پر آئی خوشی آپکے بچے ساری زندگی یاد رکھیں گے اور آپ عید والے دن خریدا ہوا گوشت کھاتے ہوۓ جو مزہ اور لذت محسوس کریں گے وہ شاید کسی عید پر آپنے اس سے پہلے محسوس نہیں کی ہوگی ۔ اسی ایک عمل میں آپکے پہلے سوال کا جواب بھی موجود ہے کہ اس بے مقصد رسم کو کیسے ختم کیا جائے ؟؟؟ آج آپ ایک انسان ہونگے جو اس رسم کو چھوڑیں گے 20 سال بعد آپکے 4 بچے اپنے 16 بچوں کو یہ فلسفہ سمجھا رہے ہونگے قربانی کا،،،،،،،، گڑ ڈالنا شروع تو کریں، زیادہ گڑ ڈالنے والے الله بڑھاتا چلا جاتا ہے، یہی دین الہی کا حقیقی منشا ہے۔</p>
<p>یہ ہیں وہ فاسد اور غلط خیالات جو آج کل پڑھے لکھے اور دین سے جاہل لوگ اپنی کمیونٹی میں پھیلا رہے ہیں ۔ یہ لوگ دین کو اپنی عقل کے مطابق چلانا چاہتے ہیں تاکہ دنیا کے سامنے ہماری سُبکی نہ ہو اور دنیا والے ہمیں بے وقوف اور دقیانوس نہ سمجھ بیٹھیں ۔ اُن کے خیال میں ہماری ترقی میں رکاوٹ یہی وہ رسوم و رواج ہیں۔ Top of Form ایک بات یاد رکھیں یہ دین جو کہ مذہب ِ اسلام ہے ، یہ ہماری عقل کا پابند نہیں ہے بلکہ ہماری عقل اسلام کی پابند ہوگی۔</p>
<p>حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نےایسے ہی سوالات کا بہت عجیب جواب دیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ جب انسان روحانیت سے غافل ہوکر صرف مادی خواہشات کی بھول بھلیوں میں پڑ جاتا ہے ۔ مادہ و صورت ہی اُس کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے اور علم و ہنر اُس کا مقصد بن جاتا ہے اور اللہ جل شانہ کی قدرت ِ کاملہ اور اُس کا عجیب و غریب نظام اُس کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے تو اُس کو ساری ہی عبادات بے جان رسوم محسوس ہونے لگتی ہیں خصوصاََ قربانی کا مسئلہ اُس کو ایک اقتصادی مشکل بن کر سامنے آتا ہے ۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ قوم کا اتنا روپیہ جو جانوں کے ذبیحہ پر ہر سال خرچ ہوجاتا ہے اور تین روز گوشت کھالینے کے سوا اس کا کوئی مفاد نظر نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔ انسان کی روٹی اور پیٹ کا مسئلہ بھی امن و سکون کے ساتھ صحیح طور پر اُس وقت حل ہوسکتا ہے جب کہ انسان انسان بن جائے ۔۔۔۔۔۔ مشاہدہ و تجربہ شاہد ہے کہ اخلاق و اعمال کی روشنی کے لئے اللہ تعالی کے خوف اور اور اُس کی رضا جوئی سے بڑھ کر کوئی کامیاب نسخہ نہیں ۔ اللہ تعالی کی اطاعت اور فرمانبرداری کا جذبہ ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو اپنی خلوتوں میں بھی جرائم سے باز رکھتا ہے اور قربانی اِس جذبے کو قوی کرنے میں خاص اثر رکھتی ہے۔ قربانی کا مقصد گوشت کھانا یا کھلانا ہرگز نہیں بلکہ ایک شرعی حکم کی تعمیل اور سنت ِ ابراہیمی یادگار کو تازہ کرکے جذبہ ایثار و قربانی کی تحصیل ہے۔ قرآن کریم نے خود اِس حقیقت کو اِس طرح بیان کیا ہے :</p>
<p>لن ینال اللہ لحومھا و لادماءھا ولکن ینالہ التقویٰ منکم (پارہ 17)</p>
<p>اللہ کے پاس ان قربانیوں کے گوشت اورخون نہیں پہنچتے ہاں تمہارا تقوی یعنی جذبہ اطاعت پہنچتا ہے۔</p>
<p>قربانی ایک عبادت ہے اور عبادات کے بارے میں اسلام کا یہ اصول ہے کہ اُن میں اجتہاد نہیں ہوسکتا بلکہ عبادات اُسی طریقے کے مطابق کی جائیں گی جو طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوگا۔ اُس طریقے سے ہٹ کر کی جانے والی عبادت کا کوئی ثواب نہیں ہوگا ۔</p>
<p>حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیۃ نے اس ھوالے سے بہت خوبصورت بات فرمائی ہےکہ اس قربانی کے ذریعہ در حقیقت جذبہ یہی پیدا کرنا مقصود ہے کہ جب اللہ تعالی کی طرف سے کوئی کام کرنے کا حکم آجائے تو انسان اپنی عقل کو طاق میں رکھ کر اللہ کے حکم کی پیروی کرے۔</p>
<p>وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَھُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ ۭ</p>
<p>وَمَنْ يَّعْصِ اللّہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا 36؀ۭ (الاحزاب 36)</p>
<p>اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کر دیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہو گیا</p>
<p>قربانی کے بارے میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔</p>
<p>عن أنس قال ضحی النبي صلی اللہ علیہ وسلم بکبشين أملحين أقرنين ذبحہما بيدہ وسمی وکبر ووضع رجلہ علی صفاحہما (مسلم)</p>
<p>نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے دو سفید سینگ والے دنبوں کی قربانی ذبح کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ اور تکیبر کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کرتے وقت دونوں دنبوں کی گردنوں کے ایک پہلو پر اپنا پاؤں مبارک رکھا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>عن عائشۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أمر بکبش أقرن يطأ في سواد ويبرک في سواد وينظر في سواد فأتي بہ ليضحي بہ فقال لھا يا عائشۃ ھلمي المدیۃ ثم قال اشحذيھا بحجر ففعلت ثم أخذھا وأخذ الکبش فأضجعہ ثم ذبحہ ثم قال باسم اللہ اللھم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمۃ محمد ثم ضحی بہ(مسلم)</p>
<p>رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا سینگ والا دنبہ لانے کا حکم فرمایا کہ جو سیاہی میں چلتا ہو اور سیاہی میں باٹھ ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو اور ایسا ہی دنبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قربانی کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا اے عائشہ چھری لاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری پکڑی اور دنبے کو پکڑ کا اسے لٹا دیا پھر اسے ذبح فرما دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بِسْمِ اللَّہِ اللَّھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ) اے اللہ محمد کی طرف سے اور محمد کی آل کی طرف سے اور محمد کی امت کی طرف سے یہ قربانی قبول فرما پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح قربانی فرمائی۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>عن عائشۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلی اللہ من إھراق الدم إنھا لتأتي يوم القيامۃ بقرونھا وأشعارھا وأظلافھا وأن الدم ليقع من اللہ بمکان قبل أن يقع من الأرض فطيبوا بھا نفسا</p>
<p>یوم نحر (دس ذوالحجہ) کو اللہ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں (یعنی قربانی سے) قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں بالوں اور کھروں سمیت آئے اور بے شک اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں مقام قبولیت حاصل کر لیتا ہے پس اس خوشخبری سے اپنے دلوں کو مطمئن کر لو۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>عن أبي ھريرۃ أن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم قال من کان لہ سعۃ ولم يضح فلا يقربن مصلانا (ابن ماجہ)</p>
<p>اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کو وسعت ہو پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>عن زيد بن أرقم قال قال أصحاب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم يا رسول اللہ ما ھذہ الأضاحي قال سنۃ أبيکم إبراھيم قالوا فما لنا فيھا يا رسول اللہ قال بکل شعرۃ حسنۃ قالوا فالصوف يا رسول اللہ قال بکل شعرۃ من الصوف حسنۃ (ابن ماجہ)</p>
<p>اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ فرمایا تمہارے والد ابراہیم کی سنت ہیں۔ انہوں نے عرض کیا ان میں ہمیں کیا ملے گا ؟ فرمایا ہر بال کے بدلہ نیکی۔ عرض کیا اور اون میں ؟ فرمایا اون کے ہر بال کے بدلہ (بھی) نیکی۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اَقَامَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم بِا لْمَدِیْنَۃِ عَشْرَ سِنِیْنَ یُضَحِّیَ۔ (رواہ الترمذی)</p>
<p>رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور (ہر سال قربانی) کرتے تھے۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p><strong>کیا بقر عید کے دن جانور قربان کرنا افضل ہے یا غریبوں کی مدد کرنا؟</strong></p>
<p>بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ اگر ہم عید کے دن جانور قربان کرنے کے بجائے کسی غریب کی مدد کر دیں تو یہ زیادہ بہتر رہے گا مگر اوپر درج احادیث میں سے ایک حدیث میں یہ ہے کہ ذو الحجہ کی دس تاریخ کو اللہ کو قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل نہیں پسند۔ پھر ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ عید کے دن قربانی کے بجائے غریبوں میں پیسے تقسیم کرنا زیادہ افضل ہے۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھنے کی ہے کہ دین کے معاملات میں عقل سے زیادہ تابعداری کی ضرورت ہے۔ عبادت کے لئے اللہ اور اللہ کے رسول کا طریقہ دیکھنا ہوگا نہ کہ اپنی رائے۔ دین کے ہر معاملے میں اجتہاد ہوبھی نہیں سکتاخصوصاََ عبادات کے معاملے میں اس کی بالکل گنجائش نہیں ہے۔ اگر عید کے دن ہم نے غریبوں کی مدد کرنی ہے تو اس کا طریقہ بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>عن سلمۃ بن الأکوع أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من ضحی منکم فلا يصبحن في بيتہ بعد ثالثۃ شيا فلما کان في العام المقبل قالوا يا رسول اللہ نفعل کما فعلنا عام أول فقال لا إن ذاک عام کان الناس فیہ بجھد فأردت أن يفشو فیہم (مسلم)</p>
<p>رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو آدمی قربانی کرے تو تین دنوں کے بعد اس کے گھر میں اس کی قربانی میں سے کچھ بھی نہ رہے تو جب اگلا سال آیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اس طرح کریں جس طرح پچھلے سال کیا تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں کیونکہ اس سال ضرورت مند لوگ تھے تو میں نے چاہا کہ قربانیوں کے گوشت میں سے ان کو بھی مل جائے۔</p>
<p>یہ ہے وہ اصل طریقہ عید کے دن غریبوں کی مدد کرنے کا ۔ غریبوں کو بھی بقر عید کے دن گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے۔ کیا نقد پیسے دینے سے اُن کی یہ خواہش پوری ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ پیسے ملنے کے بعد پھر دوسری اہم ضروریات کی طرف توجہ چلی جائے گی۔ نیز قربانی میں اصل مقصد خون بہانا ہے نہ کہ غریبوں کی مدد بلکہ غریبوں کی مدد اس قربانی کی ایک ثانوی معاملہ ہے۔اگر ہم آج کے مقبلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں غربت اور فقر و فاقہ زیادہ تھا لیکن کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ بقر عید کے دن قربانی کی بجائے غریبوں کی نقد امداد کر دو بلکہ غریبوں کی مدد قربانی کے گوشت سے کرنے کی ترغیب و دعوت دی تاکہ عید کی اس خوشی میں وہ بھی قربانی کا گوشت کھا کر شریک ہوسکیں ۔</p>
<p>قربانی ایک ایسا عمل اور ایک ایسی عبادت ہے کہ جس سے غریبوں کا روزگار وابستہ ہے۔ کتنے غریب ایسے ہوتے ہیں کہ جو عید کے اس موسم کا انتظار کرتے ہیں اور اچھاخاصا زر ِ مبادلہ اپنے گھروں کو لے کر جاتے ہیں۔ کیا قربانی کے عمل کی مخالفت کر کے ہم اُن غریبوں کے رزق کو روکنے کی کوشش نہیں کر رہے؟؟؟</p>
<p>قربانی کی بجائے غریبوں کی مدد کرنے کی مثال یوں ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ نماز و روزے کے بجائے صدقہ کردیا جائے تو زیادہ ثواب ہوگا۔ غریبوں کی مدد کا ثواب ضرور ہوگا لیکن نماز چھوڑنے کی سزا بھی ہوگی۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔ (آمین) قربانی کے واجب یا سنت میں اختلاف ہوسکتا ہے لیکن یہ کہیں بھی نہیں آیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قربانی نہیں کی بلکہ اُس کے پیسے صدقہ کردیے ہیں یا کہیں اور خرچ کردیے ہیں ۔ یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ممکن ہی نہیں کہ وہ ایک کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دس سال دیکھیں اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخصت ہونے کے بعد اُس عمل کو یہ کہہ کر چھوڑ دیں کہ یہ ایک سنت ہی ہے۔ یہ کام ہمارے جیسے گناہ گار لوگ تو کرتے ہیں مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کبھی ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔ وہ تو وہ کام بھی کیا کرتے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ کیا ہو۔</p>
<p>صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو قربانی کے جانوروں کی باقاعدہ پرورش کیا کرتے تھے اور بخاری شریف کی احادیث بھی ہیں بلکہ ایک دفعہ ایک ،وقع پر عید کے دن قربانی کے لئے کوئی بکرا نہیں مل رہا تھا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پریشان ہوگئے تو ایک صحابی نے اُن کی یہ مشکل یوں آسان کی کہ انہیں بتایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اگر دنبہ جس کی عمر چھ ماہ کی ہو تو اُس کی قربانی کی جاسکتی ہے تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دنبوں کی قربانی کی(سنن نسائی)۔</p>
<p>اگر ہم ایک بات دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ایسی باتیں کرنے والے بھائی حدیث کے منکر ہوں گے۔ وہ کبھی بھی آپ کو حدیث کے مطالعے کا نہیں کہیں گے جبکہ حدیث پر ایمان لائے بغیر ایمان مکمل ہی نہیں اور ایسا شخص تمام مسالک اور تمام علماء کرام کے نزدیک متفقہ طور پر کافر ہے۔</p>
<p><strong>کیا ایک سے زائد قربانی بے مقصد ہوتی ہے؟</strong></p>
<p>ایک سوال یہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ ایک سے زائد قربانی کیوں کی جائےجبکہ ہر انسان پر ایک قربانی واجب ہوتی ہے۔ ایک سے زائد قربانی تو بے مقصد اور فضول کام ہے۔</p>
<p>اس کا ایک جواب تو یہ ہی ہے کہ عید کے دن واجب قربانی کے علاوہ جتنی بھی قربانیاں کی جائیں ۔ کوئی بھی ان میں فضول اور بے مقصد نہیں ہوتی بلکہ یہ عین اللہ کی منشاء ہےکیونکہ مذکورہ بالا حدیث سے یہ ہم معلوم کرچکے ہیں کہ عید کے دن اللہ تعالی کو جانور کو خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل پسند نہیں ہے۔</p>
<p>دوسرا جواب یہ ہے کہ جتنے بھی جانور خریدے جائیں گے غریبوں کا بھلا اتنا ہی زیادہ ہوگا۔عید کے اس موسم میں کتنے غریب جانور سے متعلقہ کتنی چیزیں فروخت کرتے نظر آئیں گے۔ کتنے غریب لوگ جانور بیچتے نظر آئیں گے۔ ان کی تو خواہش ہی یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ جانور فروخت ہوں تو وہ زیادہ سے زیادہ نفع اپنے گھروں کو لے کر جائیں۔</p>
<p>تیسرا جواب یہ ہے کہ قربانی کا اصل مقصد خون بہانا ہے تو صدقہ کرنے سے وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>عن أنس بن مالک قال قال النبي صلی اللہ عليہ وسلم يوم النحر من کان ذبح قبل الصلاة فليعد فقام رجل فقال يا رسول اللہ إن ھذا يوم يشتہی فيہ اللحم وذکر جيرانہ وعندي جذعۃ خير من شاتي لحم فرخص لہ في ذلک فلا أدري بلغت الرخصۃ من سواہ أم لا ثم انکفأ النبي صلی اللہ عليہ وسلم إلی کبشين فذبحھما وقام الناس إلی غنيمۃ فتوزعوھا أو قال فتجزعوھا(بخاری)</p>
<p>نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح کیا ہو وہ دوبارہ کرے، ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آج کے دن گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے اور اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ میرے پاس ایک چھ ماہ کا بچہ ہے، جو گوشت کی دوبکریوں سے بہتر ہے، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، مجھے معلوم نہیں کہ یہ اجازت اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لئے بھی تھی یا نہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو ذبح کیا اور لوگ بکریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو تقسیم کرکے ذبح کردیا۔</p>
<p>کیا یہ ایک اچھا طریقہ نہیں ہے کہ جو اس حدیث میں بیان کیا گیا کہ ایک سے زائد قربانیاں کی جائیں اور اُن کا گوشت غرباء میں تقسیم کیا جائے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی یہی تھا کہ جانور ذبح کرنے کے بعد اُس کا گوشت غریبوں میں بھی تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں ایک ایک آدمی سوسو اونٹوں کی قربانی دیتا تھا۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سو اونٹ کی قربانی دی اور تریسٹھ کی قربانی کا فریضہ خود اپنے دست ِ مبارک سے سر انجام دیا ۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے مقصد عمل کیا ۔ یہ قربانی کا عمل تو بہت پرانا ہے بلکہ ہر امت میں جاری رہا ۔ البتہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں خاص اہمیت حاصل کرگیا ۔ قرآن کریم میں ہے:</p>
<p>ولکل امۃ جعلنا منسکا لیذکروا اسم اللہ علی ما رزقھم من بہیمۃ الانعام (سورۃ الحج)</p>
<p>ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپائیوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالی نے عطا فرمائے۔</p>
<p>اسی طرح قربانی کرنے والوں کو اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ جانور قربان کرنے کے بعد اُس کے گوشت کے تین حصے کریں ۔ ایک حصہ اپنے لئے، ایک حصہ اپنے رشتہ داروں کے لئے اور ایک حصہ غریبوں کےلئے (فتاوی عالمگیری)۔ یہ مستحب طریقہ ہے اور غریبوں کی مدد کے لئے بہت ہی فائدہ مند بھی ہے۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d9%82%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92-%db%8c%d8%a7-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af%d8%9f/">کیا قربانی ضروری ہے یا غریبوں کی مدد؟</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>https://almostaqeem.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d9%82%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92-%db%8c%d8%a7-%d8%ba%d8%b1%db%8c%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیا آپ کا کاروبار اسلامی اصول ِ تجارت کے مطابق ہے؟</title>
		<link>https://almostaqeem.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d9%be-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84-%d9%90-%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%db%92/</link>
		<comments>https://almostaqeem.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d9%be-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84-%d9%90-%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%db%92/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 31 Jan 2015 14:00:25 +0000</pubDate>
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
				<category><![CDATA[Blog]]></category>
		<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://almostaqeem.com/?p=3547</guid>
		<description><![CDATA[<p>&#160; موجودہ دور میں وسیع پیمانے کی تجارت و صنعت نے معاملات کی نئی نئی سورتیں اور اُن سے متعلق نئے نئے مسائل پیدا کئے ہیں جن پر دنیا بھر میں غور ہورہا ہے اور اُن کے مختلف حل سامنے لائے جارہے ہیں ، یہاں تک کہ تجارت و معیشت نے مستقل علوم کی حیثیت [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d9%be-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84-%d9%90-%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%db%92/">کیا آپ کا کاروبار اسلامی اصول ِ تجارت کے مطابق ہے؟</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p>موجودہ دور میں وسیع پیمانے کی تجارت و صنعت نے معاملات کی نئی نئی سورتیں اور اُن سے متعلق نئے نئے مسائل پیدا کئے ہیں جن پر دنیا بھر میں غور ہورہا ہے اور اُن کے مختلف حل سامنے لائے جارہے ہیں ، یہاں تک کہ تجارت و معیشت نے مستقل علوم کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ جن کی تعلیم مختلف اداروں میں دی جارہی ہے۔ لیکن یہ سب سرمایہ دارانہ نظام کے زیرِ اثر ہے جس کا مقصد ہی پرافٹ اور نفع کا زیادہ سے زیادہ حصول ہے۔ چنانچہ سرمایہ دارانہ نظام میں کاروبار کرنے کے لئے کوئی بھی چیز منتخب کی جاسکتی ہے خواہ وہ ایک عورت کا جسم ہی کیوں نہ ہو۔اسی طرح اِس مغربی نظام ِ تجارت نے انسانوں میں خود غرضی اور لالچ جیسی عادات کو پروان چڑھایا۔</p>
<p>اِس کے برعکس اسلام نے تجارت و معیشت کا ایک اصول و ضابطہ دیا ہے اور مسلمانوں کو اِ س ضابطے کا پابند بنایا ہے۔ اسلام نے ہر مسلمان کو تجارت اور کاروبار کرنے کی اجازت دی ہے۔کاروبار ایک ذریعہ معاش ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سنت بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت ملنے سے قبل 12 سال تک کاروبار کیا اور نبوت ملنے کے بعد بھی کاروبار جاری رکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاروباری سفر کا آغاز بچپن میں ہی اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ شروع کردیا تھا۔ ذریعہ معاش میں سب سے افضل ذریعہ تجارت ہے ۔ قرآن و حدیث میں تجارت کے بہت سےفضائل آئے ہیں ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک بڑی تعداد نے تجارت کی ۔ اِس کے بعد کے دور میں بھی مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد تجارت کرتی رہی ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بازار میں گئے تو دیکھا کہ بازار میں بیٹھے ہوئے ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے جو کہ باہر سے آئے ہوئے ہیں تو آپ کو بہت فکر ہوئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:</p>
<p>علیکم بالتجارۃ لاتفتنکم ھذہ الحمراء علی دنیاکم(التراتیب الاداریۃ)</p>
<p>تجارت کو ضروری سمجھو ،یہ سرخ لوگ (عجمی) تمہاری دنیا پر امتحان نہ بن جائیں</p>
<p>یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فراست تھی کہ بروقت ہی تنبیہ فرمادی اور بعد کے حالات نے اِس تنبیہ کو درست قرار دیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اِسی غفلت اور کوتاہی کا انجام ہےلیکن اِس کے ساتھ ساتھ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ فکر بھی تھی کہ کاروبار کرنے والوں کو اسلامی احکام ِ تجارت سے آگاہی بھی ہونی چاہیئے تاکہ یہ لوگ حرام نہ کھلادیں ۔ اِس کے لئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ باقاعدہ امتحان لیاکرتے تھے اور ایسے لوگوں کو بازار میں کاروبار کرنے سے روک دیا کرتے تھے جو مسائلِ تجارت سے ناواقف ہوتے تھے۔ اِس کے بعد امام مالک ؒ بھی ایسے لوگوں کو کاروبار سے روک دیا کرتے تھے جو اسلامی احکام ِ تجارت سے ناواقف ہوتے تھے۔</p>
<p>آج کے دور میں بھی اگر ہم اپنے ارد گرد موجود کاروبار میں غور کریں تو ہمیں بہت سی ایسی باتیں نظر آئیں گی کہ جو اسلام کے احکام ِ تجارت کے بالکل خلاف ہیں۔ مثلاََ</p>
<p>1۔ سود 2۔ رشوت                3۔ ملازمین کی حق تلفی                  4۔ غلط اشتہارات                5۔ سبزی اور پھل کی تجارت میں بعض مسائل</p>
<p>6۔ ماپ تول میں کمی            7۔ زکوۃ کا درست طریقے سے ادا نہ کرنا                8۔ حرام اشیاء کی کسی بھی صورت میں فروخت             9۔ انشورنس</p>
<p>یہ چند مسائل ہیں وگرنہ ایسے بہت سے مسائل ہیں جن سے تجارت کی آمدنی حرام ہوجاتی ہے۔ مثلاََ اگر کسی کو وراثت میں کوئی جائیدا یا نقد رقم ملی اور اِس وراثت میں سے بہن کو حصہ نہ دیا تو یہ کاروبار صحیح نہیں ہوگا۔ آڑھت کے کاروبار میں بہت سی شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں ۔ جن کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>کیا آپ اپنے کاروبار سے مطمئن ہیں؟</p>
<p>کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا کاروبار اسلامی اصولوں کے مطابق ہے؟</p>
<p>کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا کاروبار آپ کی عبادت ہے؟</p>
<p>کیا آپ نے کبھی کسی شریعہ کنسلٹنٹ سے راہنمائی لی ہے ؟</p>
<p>آئیے !</p>
<p>اپنے کاروبار کا شریعہ آڈٹ کروائیں اور اپنے کاروبار سے مطمئن ہو جائیں</p>
<p>شریعہ آڈٹ آپ کے کاروبار میں ترقی اور برکت کا ضامن ہے۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d9%be-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84-%d9%90-%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%db%92/">کیا آپ کا کاروبار اسلامی اصول ِ تجارت کے مطابق ہے؟</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>https://almostaqeem.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d9%be-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84-%d9%90-%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شریعہ آڈٹ کیا ہوتا  ہے؟</title>
		<link>https://almostaqeem.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%db%81-%d8%a2%da%88%d9%b9-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/</link>
		<comments>https://almostaqeem.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%db%81-%d8%a2%da%88%d9%b9-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 31 Jan 2015 14:00:02 +0000</pubDate>
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
				<category><![CDATA[Blog]]></category>
		<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://almostaqeem.com/?p=3545</guid>
		<description><![CDATA[<p>&#160; شریعہ آڈٹ ایسے عمل کو کہا جاتا ہے کہ جس کے ذریعہ کاروبار میں ہونے والی تمام سرگرمیوں کو اسلامی اصول ِ تجارت کے مطابق پرکھنا اور اُن کا تجزیہ کرنا تا کہ غیر شرعی امور کی نشاندہی ہوسکے۔ قیامت کے دن انسان کو نامہ اعمال دیتے وقت کہا جائے گا : اقراء کتابک [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%db%81-%d8%a2%da%88%d9%b9-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/">شریعہ آڈٹ کیا ہوتا  ہے؟</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p>شریعہ آڈٹ ایسے عمل کو کہا جاتا ہے کہ جس کے ذریعہ کاروبار میں ہونے والی تمام سرگرمیوں کو اسلامی اصول ِ تجارت کے مطابق پرکھنا اور اُن کا تجزیہ کرنا تا کہ غیر شرعی امور کی نشاندہی ہوسکے۔ قیامت کے دن انسان کو نامہ اعمال دیتے وقت کہا جائے گا :</p>
<p>اقراء کتابک کفی بنفسک الیوم حسیبا (الایۃ)</p>
<p>اپنی کتاب پڑھ لے تو آج اپنا ہی محاسب (آڈٹ کرنے والا)کافی ہے ۔</p>
<p>نگرانی اور جانچ پڑتال کا یہ عمل اسلام میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔خلافتِ عباسیہ کے ایک وزیر علی بن عیسی نے اِس عمل کی اہمیت کے بارے میں کہا تھا : &#8220;اگر ہم چھوٹی چھوٹی چیزوں کی جانچ پڑتال نہ کریں تو بڑی بڑی چیزیں ہم سے ضائع ہوجائیں گی ۔ اور یہ جانچ پڑتال ایسی امانت ہے جسے چھوٹے کاموں میں ادا کرنا بھی ضروری ہے ۔ اور بڑے کاموں میں بھی ۔ اِس کا فائدہ یہ ہے کہ ہم سے معاملہ کرنے والوں کو جب یہ معلوم ہوگا کہ ہم ان امور کا اتنا اہتمام کرتے ہیں وہ خود ہم سے امانت داری سے پیش آئیں گے اور خیانت کرنے سے خائف ہوا کریں گے ۔ نیز وہ فرماتے ہیں چھوٹی چھوٹی چیزوں میں جانچ پڑتال کو ترک کرنا اندرونی طور پر بڑی مشکلات میں ڈال دیتا ہے اور بیرونی معاملات میں جانچ پڑتال معاملات کرنے والے کے اعتماد کا سبب ہوتی ہے ۔&#8221; خلافتِ عباسیہ میں ایک ادارہ بیرونی معاملات کی جانچ پڑتال کے لئے قائم کیا گیا تھا ، جس کا نام تھا &#8221; زمام الازمۃ&#8221;۔</p>
<p>آج کل کے دور میں مالی بحران کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نگرانی اور جانچ پڑتال کے جن اصولوں کی اسلام نے دعوت و ترغیب دی ہے ، اُن اصولوں سے پہلوتہی کی گئی ہے اور یہ غفلت سرمایہ کاروں کے اعتماد کے ختم کررہی ہے ۔</p>
<p>شریعہ آڈٹ کا عمل ہر کاروباری ادارے کے لئے اس لئے لازم ہے کہ وہ تجارت کو صحیح اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے میں معاون ہوتا ہے۔ شریعہ آڈٹ کا عمل ایک تاجر کو صحیح معنوں میں ایک مسلمان تاجر بننے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ شریعہ آڈٹ کا عمل کافی عرصہ پرانا ہے بلکہ فتاوی بزازیہ کے بقول ابتدائی زمانے میں ہر تاجر اپنے ساتھ ایک عالمِ دین کو ساتھ رکھتے تھے جو اُن کے کاروباری معاملات کو دیکھا کرتے تھے اور اُن معاملات میں پائی جانے والی خرابیوں اور نقائص کو شریعہ کے اصولوں کے مطابق پرکھ کر متبادل بہتر حل پیش کیا کرتے تھے۔ آج کے اِ س ماڈرن دور میں کاروباری ادارے اپنی بہتری اور نفع کے اضافے کے لئے مختلف اقدامات کرتے ہیں لیکن پھر بھی اپنے مطلوبہ اھداف حاصل نہیں کرپاتے۔ اس کے اسباب میں ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہماری تجارت میں بہت سے ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جو کہ اخلاقیات، قوانین اور شریعہ کے مسلمہ اصولوں کے بالکل مخالف ہوتے ہیں ۔شریعہ آڈٹ ہمیں ایسے ہی خامیوں کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ شریعہ آڈٹ ہمیں ایسے نقائص دور کرنے میں ہمت افزائی کرتا ہے۔شریعہ آڈٹ کاروبار کے ایک ایک عمل کی نگرانی کرتا ہے اور کاروبار کو صحیح سمت میں جاری رکھتا ہے۔ شریعہ آڈٹ کی بدولت انسان کا سرمایہ محفوظ ہوجاتا ہے اور اُس محفوظ شدہ سرمایے سے زیادہ سے زیادہ نفع کمایا جا سکتا ہے۔</p>
<p><strong>شریعہ آڈٹ کیسے کیا جاتا ہے؟</strong></p>
<p>کسی بھی ادارے کے شریعہ آڈٹ کے لئے ضروری ہے کہ اُس ادارے کے مالک، سینئر مینجمنٹ اور دیگر اہم افراد کو اِ س عمل کی اہمیت کے بارے میں بتایا جائے کہ یہ عمل آپ کے ادارے کے لئے کتنا ضروری ہے۔ شریعہ آڈٹ سے آپ کے کاروبار کو کیا کیا فائدہ ہوگا ۔شریعہ آڈٹ کا کیا طریقہ کار ہوگا ۔ اس کے بعد کسی ایک شعبے کا انتخاب کرکے اُس شعبے کی پالیسیوں کامطالعہ کیا جاتا ہے ۔ اُن پالیسیوں میں غیر شرعی امور کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ مثلاََ مارکیٹنگ کے شعبہ میں ایڈورٹائزنگ میں کیا کیا خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ اشتہار بناتے ہوئے کن جائز حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔جائز اشتہارات اور ناجائز اشتہارات میں کیا کیا فرق پائے جاتے ہیں ۔ دنیا میں اِس حوالے سے کیا ریسرچ ہورہی ہے۔ شریعہ میں اشتہارات کی کیا اہمیت ہے ۔ اگر اشتہارات میں کوئی غیر شرعی خرابی پائی گئی ہے تو اُس کو کیسے درست کیا جائے گا ۔ اُس کا کیا حل ہوگا ۔</p>
<p>اگر اشتہارات بنانے ہیں تو کس طرح مقصد حاصل کرنا ہے۔ شریعہ میں اشتہارات میں کیا باتیں کرنا ضروری ہیں ۔ اگر کسی آدمی سے مارکیٹنگ کروانی ہے تو اُس کی جائز صورتیں کیا ہوں گی ۔ ای مارکیٹنگ کا اسلام میں کیا تصور ہے۔ سوشل میڈیا پر مارکیٹنگ کے حوالے سے شریعہ میں کیا راہنمائی ہے۔ اسی طرح دیگر طرح دیگر شعبوں میں بھی یہ عمل کیا جائے گا اور ان شوبوں کے مسائل کو شریعہ کے اصولوں کے مطابق حل کیا جائے گا ۔</p>
<p>شریعہ آڈٹ آپ کو کاروبار میں نفع کے حصول کے ساتھ ساتھ دلی اطمینان بھی نصیب کرتا ہے اور آپ کے کاروبار کو مزید ترقی حاصل کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%db%81-%d8%a2%da%88%d9%b9-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/">شریعہ آڈٹ کیا ہوتا  ہے؟</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>https://almostaqeem.com/%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%db%81-%d8%a2%da%88%d9%b9-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>زکوۃ ایک عبادت ہے</title>
		<link>https://almostaqeem.com/%d8%b2%da%a9%d9%88%db%83-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%aa-%db%81%db%92/</link>
		<comments>https://almostaqeem.com/%d8%b2%da%a9%d9%88%db%83-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%aa-%db%81%db%92/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 31 Jan 2015 13:59:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
				<category><![CDATA[Blog]]></category>
		<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://almostaqeem.com/?p=3543</guid>
		<description><![CDATA[<p>&#160; اسلام کا ایک اہم رکن زکوۃ ہے ۔ اگر اس رکن کا بالکل انکار کیا جائے تو انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔ زکوۃ کے بارے میں قرآن و حدیث میں بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں : &#160; ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%d8%b2%da%a9%d9%88%db%83-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%aa-%db%81%db%92/">زکوۃ ایک عبادت ہے</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p>اسلام کا ایک اہم رکن زکوۃ ہے ۔ اگر اس رکن کا بالکل انکار کیا جائے تو انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔ زکوۃ کے بارے میں قرآن و حدیث میں بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں :</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺنے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا کہ تم انہیں یہ شہادت دینے کی دعوت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اگر وہ اس کو مان لیں تو انہیں یہ بتلاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں کو دی جائے گی۔(بخاری)</p>
<p>حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ انہوں نے عرض کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کردے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو کیا ہوگیا، اس کو کیا ہوگیا، اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ صاحب ضرورت ہے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کا کسی کو شریک نہ بنا، نماز قائم کر اور زکوۃ دے اور صلہ رحمی کر۔(بخاری)</p>
<p>ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے زکوۃ نہ اداء کی تو اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کے پاس لایا جائے گا جس کے سر کے پاس دو چنیاں ہوں گی قیامت کے دن اس کا طوق بنایا جائے گا، پھر اس کے دونوں جبڑوں کو ڈسے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، پھر قرآن کی آیت پڑھی اور وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مال عطا کیا اور وہ اس میں بخل کرتے ہیں وہ اسے اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں بلکہ یہ برا ہے اور قیامت کے دن یہی مال ان کے گلے کا طوق ہوگا۔ (بخاری)</p>
<p>بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ رمضان میں زکوۃ فرض ہوتی ہے ۔ یہ درست خیال نہیں ہے بلکہ اسلامی مہینے کی جس تاریخ کو انسان کے پاس اسلام کے معیار کے مطابق قابل ِ زکوۃ مال جمع ہوجائے اور پھر اُس پر ایک سال گزر جائے تو زکوۃ فرض ہوجاتی ہے ۔ اس سال کے دوران جتنا اضافہ ہوتا جائے گا وہ بھی اُسی میں شمار کیا جائے گا اور اُس پر زکوۃ فرض ہوگی۔ اُس کے لئے الگ سے سال کا گزرنا شرط نہیں ہے ۔</p>
<p>قابلِ زکوۃ اموال یہ ہیں : ساڑھے سات تولہ سونا (کسی بھی مقصد کے لئے ہو)، ساڑھے باون تولہ چاندی(کسی بھی مقصد کے لئے ہو) ، نقد، سامان تجارت۔ ان میں سے کسی ایک کی یا کوئی بھی دو آپس میں ملا کر کل مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوں تو زکوٰۃ فرض ہوگی۔</p>
<p>سامان ِ تجارت میں وہ تمام اشیاء شامل ہوں گی جو کہ فروخت کی نیت سے خریدی گئی ہیں مثلا پلاٹ، مکان ، دکان ، گاڑی ، جیولری ، الیکٹرونکس کا سامان ، شیئرز، بانڈز وغیرہ شامل ہیں ان کی موجودہ مالیت پر زکوۃ ہوگی ۔ اس کے علاوہ اگر کسی کے پاس نقد روپیہ رکھا ہو ، اُس پر بھی زکوۃ فرض ہوگی ۔ وہ روپیہ حج، اولاد کی شادی ، مکان کی خریداری ، یا کسی بھی نیت سے رکھا ہو ۔ نیز ادھار دیے گئے روپیہ پیسہ پر بھی زکوۃ فرض ہوتی ہے ۔</p>
<p>زکوۃ سید ، عباسی، جعفری ، علوی اور ہاشمی خاندان کے افراد کو نہیں د ی جاسکتی کیونکہ احادیث ِ طیبہ میں منع کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ زکوۃ کی رقم کسی عمارت یا بلڈنگ کی تعمیر میں بھی نہیں لگائی جاسکتی۔ بہت سے ادار ےاور ٹرسٹ بھی زکوۃ وصول کرتے ہیں لیکن ان کا زکوۃ کو استعمال کرنے کا طریقہ کار شریعۃ کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوتا، اس لئے اُن کو دینا بھی جائز نہیں ہے ۔ بہت سے ہسپتال بھی زکوۃ کے پیسوں کی امداد سے چلتے ہیں لیکن ان کا نظام ِ زکوۃ بھی شریعۃ کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوتا ۔ ان کو زکوۃ دینے سے احتیاط کرنی چاہیے ۔ ان کی مدد زکوۃ کے علاوہ صدقات یا خیرات سے بھی کی جاسکتی ہے ۔ زکوۃ ایک عبادت ہے اور عبادت کو اُس کے اصولوں کےمطابق سر انجام دیا جاتا ہے ، اس میں اپنی مرضی نہیں کی جاسکتی ۔ زکوۃ کے پیسوں سے سڑک تعمیر کرنا یا مسجد کی تعمیر کرنا درست نہیں ہے۔ زکوۃ کے پیسوں کا مستحقِ زکوۃ کو مالک بنا ضروری ہے ۔ زکوۃ اپنے ملازمین کو بھی دی جاسکتی ہے لیکن وہ تنخواہ میں شمار نہیں کی جاسکتی ۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%d8%b2%da%a9%d9%88%db%83-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%aa-%db%81%db%92/">زکوۃ ایک عبادت ہے</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>https://almostaqeem.com/%d8%b2%da%a9%d9%88%db%83-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%aa-%db%81%db%92/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا</title>
		<link>https://almostaqeem.com/%d8%ae%d8%b1%db%8c%d8%af%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%84-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3-%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%d9%88%da%af%d8%a7/</link>
		<comments>https://almostaqeem.com/%d8%ae%d8%b1%db%8c%d8%af%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%84-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3-%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%d9%88%da%af%d8%a7/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 31 Jan 2015 13:59:14 +0000</pubDate>
		<dc:creator><![CDATA[admin]]></dc:creator>
				<category><![CDATA[Blog]]></category>
		<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://almostaqeem.com/?p=3541</guid>
		<description><![CDATA[<p>&#160; دکان دار یہ جملہ لکھنے کے بعد اور اِس پر عمل کرنے کے بعد سوچتے ہیں کہ شاید ہمارے کاروبار کی ترقی اِسی جملے میں پوشیدہ ہے۔ یہ ایک ایسا گُر ہے جو ہمیں راتوں رات امیر ترین آدمی بنادے گا ۔ ہمارے کاروبار میں نقصان نہیں ہوگا کیونکہ گاہک چیز ایک دفعہ خریدنے [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%d8%ae%d8%b1%db%8c%d8%af%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%84-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3-%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%d9%88%da%af%d8%a7/">خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p>دکان دار یہ جملہ لکھنے کے بعد اور اِس پر عمل کرنے کے بعد سوچتے ہیں کہ شاید ہمارے کاروبار کی ترقی اِسی جملے میں پوشیدہ ہے۔ یہ ایک ایسا گُر ہے جو ہمیں راتوں رات امیر ترین آدمی بنادے گا ۔ ہمارے کاروبار میں نقصان نہیں ہوگا کیونکہ گاہک چیز ایک دفعہ خریدنے کے بعد واپس نہیں آئے گا ۔ یوں ہماری تجارت بڑھ جائے گی اور ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ انسان فطرتاََ خود غرض واقع ہوا ہے اللہ تعالی نے اِس کی اس عادت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے :</p>
<p>لایسئم الانسان من دعاء الخیر (49:41)                      انسان بھلائی (مال و دولت) مانگنے سے کبھی نہیں تھکتا۔</p>
<p>اگر ہم اِ س پالیسی پر غور کریں تو ہمیں یہ محسوس ہوگا کہ یہ پالیسی اور سوچ لالچ اور خود غرضی پر مبنی ہے۔ہمیں اپنا نفع اور فائدہ عزیز ہے اور کسی دوسرے کے نقصان کی ہمیں پرواہ نہیں ہے۔اسلام کی سوچ اِس سے مختلف ہے ۔ اسلام کی تعلیمات پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اسلام میں کسی دوسرے کے لئے قربانی دینے کا بہت زیادہ اجر مقرر کیا گیا ہے اور اِس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اِسی جذبہ قربانی کے تحت اپنی جانیں تک بھی دوسرے صحابہ ساتھیوں کے لئے قربان کر دیا کرتے تھے جبکہ اِس مال کی اُن کے سامنے اپنے بھائی ، دوست کے مقابلے میں کوئی وقعت اور اہمیت نہ تھی۔</p>
<p>ایک دفعہ ایک غزوہ میں تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شدید زخمی ہوگئے اور تینوں کو بہت شدید پیاس لگی ہوئی تھی۔ ایک صحابی اُن میں سے ایک زخمی کے لئے پانی لے کر آئے تو انہوں نے دوسرے زخمی کی طرف بھیج دیا اور جب وہ دوسرے زخمی کے پاس پہنچے تو انہوں نے تیسرے زخمی کے پاس بھیج دیا ۔ جب وہ پانی لے کر تیسرے کے پاس پہنچے تو وہ اللہ کے پاس پہنچ چکے تھے ۔ وہ صاحب پانی لے کر واپس دوسرے کے پاس پہنچے تو وہ بھی بغیر پانی کے رخصت ہوچکے تھے۔ پھر وہ بھاگ کر واپس پہلے صحابی کے پاس پہنچے تو وہ بھی جان دے چکے تھے۔ یوں تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کے لئے پانی کی قربانی دیتے ہوئے پیاسے ہی اللہ کے راستے میں شہید ہو چکے تھے۔ ایثار و قربانی کا یہ ایسا واقعہ ہے کہ عقل حیران ہے کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ تینوں میں سے ایک نے بھی پانی پینا گوارا نہ کیا اور شہید ہوگئے۔</p>
<p>یہ جذبہ ایثار صرف جہاد کے موقع پر ہی نہیں تھا بلکہ تجارت اور کاروبار میں بھی اِس جذبے کی کوئی کمی نہ تھی ۔ اسی جذبے کو کاروبار میں بیدار کرنے کے لئے نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی۔ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ بازار تشریف لے گئےتو ایک دکان دار کسی چیز کا وزن کر رہا تھا ۔ آپ ﷺ نے اُس سے ارشاد فرمایا : زِن و ارجِح (وزن کرتے وقت ذرا تول کو جھکاؤ)۔یعنی خریدار کو وزن کرتے وقت کچھ زیادہ دے دو۔ اِس طرح خریدار خوش ہوجائے گا اور مزید خریداری کے لئے آئے گا ۔ اِسی طرح ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:</p>
<p>من اقال مسلماَ اقالہ اللہ عثرتہ یوم القیامۃ (ابو داؤد)           جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ اقالہ کرےگا ، اللہ تعالی قیامت کے دن اُس کی غلطیاں بخش دے گا ۔</p>
<p>اقالہ کہتے ہیں کہ کسی چیز کو خریدنے یا فروخت کرنے کے بعد اُسے واپس کرنا اور اُس کنٹریکٹ کو منسوخ کرنا ۔ یہ فضیلت دکان دار اور خریدار دونوں حاصل کر سکتے ہیں ۔ ایک اور موقع پر ایسے شخص کو رسول ﷺ نے رحمت کی دعا ء دی ہے جو کہ لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرتا ہے:</p>
<p>رحم اللہ رجلاَسمحاَ اذا باع و اذا اشتریٰ واذا اقتضیٰ (بخاری)</p>
<p>اللہ تعالی رحم فرمائے ایسے آدمی پر کہ جو لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرتا ہے خرید و فروخت اور مطالبے کے وقت۔</p>
<p>اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے کاروبار ناکام ہوجاتے ہیں جو کہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور آسانی کا معاملہ کرتے ہیں ۔ کیا ایسے کاروبار ختم ہوجاتے ہیں کہ جو لوگوں سے خریدا ہوا مال واپس لے لیتے ہیں ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ ایسے کاروبار دیگر کاروبار کی نسبت زیادہ جلدی ترقی حاصل کرتے ہیںاور زیادہ نفع کماتے ہیں ۔آج کی اِس دنیا میں اِس کی مثالیں موجود ہیں ۔ مثلا دنیا کا مشہور سٹور وال مارٹ ہے ۔ اِس کی سال 2013 ء میں ٹوٹل آمدنی 469.162 بلین یو ایس ڈالرز تھا ۔ 2013ء میں اِ س کے ٹوٹل ملازموں کی تعداد 2.2 ملین تھی ۔</p>
<p>سحر ٹیک آئی ٹی کی دنیا کی ایک پاکستانی کمپنی ہے جو کہ 1998ء سے منی بیک گارنٹی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔اِس کمپنی کے مالک کے بقول 2013ء تک صرف ایک خریدار ایسا تھا کہ جس نے اِس سہولت سے فائدہ اٹھایا جبکہ باقی سارے کسٹمرز اِس کمپنی کے ساتھ مسلسل چل رہے ہیں۔</p>
<p>منی بیک گارنٹی ایک ایسی پالیسی ہے کہ جس کا اگر صحیح استعمال کیا جائے تو یہ کاروبار میں اضافے اور نفع کا سبب بن جائے گا۔مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے کہ جب ایسی پالیسی لائی جاتی ہے لیکن اُس کو مکمل طور پر لاگو نہیں کیا جاتا ۔ جس کی وجہ سےاِس کا نقصان ہوتا ہے ۔چنانچہ اِس پالیسی کو صحیح طور پر نافذ کرکے اپنا کاروبار بڑھایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com/%d8%ae%d8%b1%db%8c%d8%af%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%84-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3-%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%d9%88%da%af%d8%a7/">خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہوگا</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://almostaqeem.com">Al Mostaqeem</a>.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>https://almostaqeem.com/%d8%ae%d8%b1%db%8c%d8%af%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%84-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3-%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%d9%88%da%af%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
