Our Blog

تکافل میں شریعہ بورڈ کی ضرورت اور اس کا دائرہ کار

انشورنس کے بجائے تکافل کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو سننے والے کے ذہن میں یہ بنیادی سوال ابھرکر آتا ہے کہ آخر انشورنس اور تکافل میں بنیادی فرق کیا ہے ؟

اس سوال کا سیدھا اور یک لفظی جواب یہ ہے کہ دونوں میں بنیادی فرق حلال وحرام کا ہے۔ ورنہ نظری اعتبار سے دیکھا جائے تو تکافل اور انشورنس کمپنیاں معاشرے کے افراد کو بچت، سرمایہ کاری اور معاشی تحفظ جیسی ضروریات کو پورا کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔اور یہ امور بذات خود منع یا حرام نہیں ہیں شرعی اور قانونی اعتبار سے ان اقدامات کا جائزہ لیا جائے توان میں کسی قسم کی شرعی یا قانونی قباحت اس وقت تک نہیں پائی جاتی جب تک کہ کوئی خلاف شرع یا خلاف قانون کام نہ کیا جائے لیکن عملی اعتبار سے دونوں کے طریقہ کار ، اہداف اور مقاصد کا فرق ہی ان میں حد فاصل کھینچ دیتا ہے۔اسلامی سکالر اور علماء نے انشورنس کو نا جائز اس لیے قرار نہیں دیا کہ وہ اپنی ذات میں کوئی خراب چیز ہے بلکہ اس سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انشورنس میں کلائنٹ اور کمپنی کے درمیان عقد معاوضہ (Commutative Contract) ہونے کی وجہ سے پیسوں کے اس لین دین میں سود،قمار اورغرر جیسے شرعی ممنوعات پائے جاتے ہیں ۔ ورنہ اپنی ذات میں انشورنس معاشرے کے افراد کو بچت، سرمایہ کاری اور معاشی تحفظ فراہم کرنے کا ایک نظام ہے جس میں سود ، قمار اور غرر جیسے خارجی عوارض کے پائے جانے کی وجہ سے خرابی پیدا ہو گئی ہے اوریہ بات ہر مسلمان جانتا ہے کہ سود، قمار اور غرر ایسے ذرائع آمدن ہیں جن کے بارے میں شریعت اسلامیہ کا دو ٹوک فیصلہ یہی ہے کہ ان سے حاصل شدہ آمدنی کسی صورت جائز نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے انشورنس کے ناجائز ہونے کے لیے ان تینوں خرابیوں کابیک وقت پایاجانا لازمی نہیں ہے بلکہ ان میں سے کسی ایک کا پایا جانا بھی انشورنس کے عدم جواز کے لیے کافی ہے۔چونکہ وطن عزیز میں بیک وقت بچت، سرمایہ کاری اور معاشی تحفظ فراہم کرنے والا ایسا کوئی ادارہ موجود نہیں تھا جو ان شرعی خامیوں سے پاک ہو اس لیے علماء اور اسلامی سکالرز کی طرف سے عموما انشورنس کے ذریعہ مذکورہ فوائد حاصل کرنے کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی جاتی رہی ہے۔اس لیے شدت سے ضرورت اس بات کی تھی کہ ملک میں ایسے ادارے قائم کیے جائیں جو عوام الناس کو مذکورہ فوائد اسلامی تعلیمات کے عین مطابق فراہم کریں ۔دنیا بھر میں تبدیل ہوتے حالات اور احوال نے جہاں انشورنس کی ضرورت اور افادیت کو پہلے سے کہیں گنا بڑھا دیا وہاں اسلامی نقطہ نظر سے اس کے جائز اور حلال متبادل کی حاجت اور طلب میں بھی پہلے سے زیادہ اضافہ کر دیا ۔مغربی ملکوں کے بر خلاف مسلم ممالک خصوصا پاکستان کی آبادی کی ایک بڑی اکثریت انشورنس سے دور صرف اسی لیے ہے کہ وہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنے دینی معتقدات کی رو سے جائز و حلال نہیں سمجھتی معاملہ کی اس نزاکت کا ادراک حکومت کو مختلف سرویز ،مشاہدات اور انشورنس کمپنیوں کے تجربات سے ایک عرصے سے تھا دوسری طرف اکابر علماء کرام اور سکالرز بھی اس معاملہ کی حساسیت سے غافل نہ تھے چنانچہ انھوں نے بچت ، سرمایہ کاری اور معاشی تحفظ جیسی سہولت فراہم کرنے کے لیے تکافل کا ایسا نظام وضع کر کے پیش کیا جس میں سود، قمار اور غرر جیسی غیر اسلامی چیزیں نہیں پائی جاتی ہیں۔ درحقیقت تکافل انشورنس جیسے ایک اہم اجتماعی مسئلہ کا جائز یا مباح متبادل حل ہے جس کی برسوں سے اشدضرورت تھی۔انشورنس کے جائز و حلال متبادل نظام کو عملا چلانے کے لیے دو بنیادی مسئلے طے کرنا نہایت ضروری تھے ایک یہ کہ ایسا کون سا ماڈل اختیار کیا جا سکتا ہے جس میں انشورنس میں پائی جانے والی مذکورہ شرعی خرابیاں نہ پائی جائیں اور دوسر ا مسئلہ یہ کہ وہ کون سی اتھارٹی ہو گی جو اس بات کو یقینی بنانے کی قانونا اور شرعا ذمہ دار ہو کہ تکافل میں ہونے والے تمام معاملات شریعت کے مطابق اور سود، جو اور غرریا ان کے علاوہ دیگر کسی نا جائز امر سے خالی ہیں۔70کی دہائی میں مشرق وسطی، مڈل ایسٹ وغیرہ میں مختلف تکافل ماڈل قائم ہو چکے تھے ان کی روشنی میں جاری برسوں کی تحقیق اور غور و خوض کے بعد 2002میں پاکستان کے معروف دینی ادارے دار العلوم کراچی میں مرکز الاقتصاد الاسلامی کی دعوت پر پاکستان، بنگلہ دیش اور شام کے اہل علم اور سکالر کا اجتماع ہوا جس میں علماء کرام نے وقف کی بنیاد پر تکافل نظام کو مروجہ انشورنس کے جائز و حلال متبادل قرار دے کر پہلے مسئلہ کو بحسن و خوبی حل کر لیا۔اس کی روشنی میں سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے 2005  میں تکافل رولز جاری کیے جن کو تکافل رولز 2005 کا نام دیا گیا ہے ۔ ان تکافل رولز2005 کے رول نمبر34کے مطابق ہر تکافل کمپنی کے لیے لازم قرار دیا گیا کہ وہ کم از کم تین ایسے ماہرین پر مشتمل ایک شریعہ بورڈ تشکیل دے جو اسلامی فقہ، معاملات اور جدید معاشیات میں نمایاں مقام و تجربہ رکھتے ہوں کمپنی کی طرف سے قائم کردہ اس شریعہ بورڈ کے فرائض منصبی میں یہ شامل کیا گیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تکافل کمپنی کی پراڈکٹ، اس کے طریقہ کار، اور فنڈز کی سرمایہ کاری شریعت اسلامیہ کے مطابق ہو نیز اس کے ساتھ ہی رول نمبر33 کے مطابق سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کمیشن پر لازم کیا کہ وہ ایک سنٹرل شریعہ بورڈ تشکیل دے جس کا مقصد تکافل کمپنی کے تکافل آپریشن کے کسی بھی پہلوپر مشاورت اور رہنمائی فراہم کرنا ہو گا۔2012 میں سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے تکافل رولز2012متعارف کرائے جن کے مطابق ہر تکافل کمپنی کے لیے کم از کم ایک شریعہ ایڈوائز کا تقرر لازم قرار دیا گیا ہے جس کے فرائض منصبی میں اس بات کو یقینی بنانا ٹھہرایا گیاکہ تکافل کمپنی کی پراڈکٹ اس کے متعلقہ ڈاکومنٹس مختلف فنڈز کی سرمایہ کاری اور ری تکافل اریجمنٹ وغیرہ کے معاملات شریعت اسلامی کے مطابق ہوں اس کے علاوہ شریعہ ایڈوائزر کو سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے قائم کردہ سنٹرل شریعہ بورڈ کی ہدایات اور مشاورت کا پابند قرار دیا ہے۔یہ سنٹرل شریعہ بورڈ تکافل رولز2012کے مطابق سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان تشکیل دے گا جس کے ممبران کی کم از کم تعداد تین ہو گی یہ سنٹرل شریعہ بورڈ اسلامی فنانشل اداروں کی ضروریات اور لین دین سے متعلقہ شرعی اصولوں کی تشریح اور رہنمائی کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایسے تمام فنانشل ادارے جو کہ فنانشل سروس اسلامی تعلیمات کے مطابق دینے کے مدعی ہیں وہ واقعی اسلام کے شرعی اصولوں پر کاربند ہوں یہ فنانشل ادارے مختلف امور پر شریعہ بورڈ کی رائے حاصل کرنے کے بھی پابند ہوں گے مئی2013 میں سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ایک پریس ریلز میں بتایا کہ کمیشن نے شریعہ ایڈوائزری بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی ہے پریس ریلز کے مطابق شریعہ ایڈوائزری بورڈ9 ممبران پر مشتمل ہو گا جن میں نمایاں علماء دین، جج صاحبان، مالی امور کے ماہرین اور سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے نامزد حکام شامل ہوں گے کمیشن نے شریعہ بورڈ کے ممبران کے لیے اہلیت بھی مقرر کی ہے جس کے مطابق ارکان کے لئے معاشیات، فنانس، اسلامک اکاؤنٹنگ اور شریعہ قوانین کی تعلیم اور تجربہ لازم قرار دیا ہے۔ شریعہ ایڈوائزری بورڈ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے لیے بطور مشیر اور ریفرنس باڈی کام کرنے کے علاوہ اسلامی فنانشل مارکیٹ جیسے کہ اسلامک میوچل فنڈز، اسلامک پنشن فنڈز، تکافل آپریٹرز، مضاربہ کمپنیوں اور دیگر اسلامی لین دین کرنے والے اداروں سے متعلق شریعہ کے اصولوں کے مطابق قوانین کی تشریح بھی کرے گامزید ازاں شریعہ ایڈوائزری بورڈ کی سب سے اہم ذمہ داری مختلف کمپنیوں کی جانب سے متعارف کرائے جانے والی اسلامی خدمات اور پراڈکٹ کی توثیق کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ کمپنیوں کی تمام اسلامی پراڈکٹ اور خدمات شریعہ کے اصولوں کے عین مطابق ہوں۔شریعہ ایڈوائزری بورڈ کیپیٹل مارکیٹ کے لئے ریگولیشن ، اکاؤنٹنگ اور آڈٹ کے قوائد وضع کرنے کے ساتھ سرمایہ کاروں میں آگاہی پیدا کرنے جیسے اقدامات بھی کرے گا۔ حکومت کے ان اقدامات نے نہ صرف تکافل انڈسٹری میں معاملات کے شریعت اسلامیہ کے مطابق ہونے کو یقینی بنانے والی ذمہ دار اتھارٹی کے تعین کا دوسرا مسئلہ بھی حل کر دیا۔ بلکہ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی زیر انگرانی قائم ہونے والا بورڈ تکافل کے علاوہ دیگر اداروں کو بھی شریعہ رہنمائی فراہم کرنے کا پابند ہو گا ۔ان دو بنیادی مسائل کے بحسن و خوبی حل ہونے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ تکافل انڈسٹری مروجہ انشورنس کا بہترین جائز و حلال متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے جس کی ترقی اور کامیابی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مروجہ انشورنس کمپنیوں نے بھی طویل قانونی جہدوجہد کے بعد بالآخر ونڈو تکافل آپریشن شروع کر دیے ہیں اس طرح یہ امکان بھی پیدا ہو چلا ہے کہ آنے والے برسوں میں مروجہ انشورنس کمپنیاں بھی تکافل میں تبدیل ہو جائیں گی یا ان کا کردار رسمی سا رہ جائے گا۔ اس منزل کے حصول کے لیے بہر حال طویل اور صبر آزما محنت اور اخلاص کی ضرورت ہے اس کے لیے انشورنس سے وابستہ حضرات خصوصا کمپنیوں کے مالکان اور شیئر ہولڈرز کوکلیدیکردار ادا کرنا پڑے گا۔

بشکریہ مفتی شمشاد احمد پاک قطر تکافل

Tags:

This is a unique website which will require a more modern browser to work! Please upgrade today!